حضور سیدن سرکار کا تعلق "کلس شریف" سے تھا، جو سرگودھا، گجرات اور جہلم کے سنگم پر واقع ایک پُرنور بستی ہے۔ یہ بستی دریائے جہلم کے جنوبی کنارے، ملکوال ریلوے اسٹیشن سے تقریباً چھ میل مغرب کی جانب آباد ہے۔ یہی مقام آپ کی جائے ولادت اور یہی آپ کی آخری آرام گاہ (مرقدِ منور) ہے。
کلس شریف کا علاقہ تاریخی اور روحانی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ مقام صدیوں سے روحانی تعلیمات اور خدمتِ خلق کا مرکز رہا ہے۔ دربار شریف کی عمارت اپنے اسلامی طرزِ تعمیر اور روحانی ماحول کے باعث زائرین کے دلوں میں خاص مقام رکھتی ہے。
سلسلہِ عالیہ کا مبارک شجرہ طریقت
یہ مبارک سلسلہ حضور نبی کریم ﷺ سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے واسطے سے
آج تک متصل و منسلک ہے۔ یہ سلسلہ چشتیہ صابریہ علم و عرفان، تقویٰ و طہارت،
اور خدمتِ خلق کی تعلیمات کا امین ہے۔
حضرت پیر سیدن شاہ چشتی صابری رحمۃ اللہ علیہ کا شجرۂ نسب مبارک حضرت غوث بہاء الحق زکریا رحمۃ اللہ علیہ سے ملتا ہے۔
حضور پیر سیدن شاہ چشتی صابریؒ، (کلس شریف).حضرت پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ المعروف (بھیرہ شریف) اور حضرت پیر محمد کرم شاہؒ المعروف دربارِ عالیہ (پیر کھارا شریف تحصیل پنڈ دادن خان)، یہ تینوں جلیل القدر اور برگزیدہ روحانی شخصیات ایک ہی معزز خانوادئہ ہاشمی قریشی سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان عظیم ہستیوں کا شجرۂ نسب ایک مستند اور روشن برگزیدہ ہستی سے براہِ راست شیخ الاسلام، مخدوم حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانیؒ المعروف حضرت غوثِ بہاء الحقؒ تک جا ملتا ہے۔ یہ مبارک خانوادہ صرف ماضی کی ایک درخشاں یاد نہیں بلکہ آج بھی اپنی روحانی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانیؒ کے اس معزز ہاشمی قریشی خاندان کے افراد آج بھی برصغیر سمیت انہی مختلف علاقوں پر آباد ہیں، جہاں اج بھی ان خانقاہوں سے دینِ اسلام کی خدمت، اصلاحِ باطن اور مخلوقِ خدا کی روحانی تربیت میں مصروفِ عمل ہیں۔ صدیوں سے جاری یہ روحانی وراثت کسی وقتی تحریک کا نتیجہ نہیں بلکہ اخلاص، تقویٰ اور خدمتِ خلق پر قائم وہ مقدس امانت ہے جس کے امین یہ برگزیدہ ہستیاں اور ان کا خانوادہ ہیں، اور جن کے فیوض و برکات آج بھی طالبانِ حق کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
حضرت غوث بہاء الحق زکریا سے حضرت پیر سیدن شاہ تک
📚 ماخذ: شاہکارِ صابر (سیرتِ سیدن) - تصنیف: حضرت پیر گلزار حسین شاہ صابری رحمۃ اللہ علیہ
برِصغیر پاک و ہند کا خطہ روزِ اول سے ہی اللہ کے برگزیدہ اور انعام یافتہ بندوں کا مسکن رہا ہے۔ ان نفوسِ قدسیہ نے اپنے پاکیزہ کردار، حسنِ اخلاق اور عملِ پیہم سے دلوں کی تسخیر کی۔ ان کی حیاتِ طیبہ زہد و اتقا، عبادت و ریاضت، طہارت، سخاوت، شجاعت اور پیکرِ مہر و وفا کا ایک روشن مینار ہے۔
کلس شریف کا دربار شریف اسی روحانی ورثے کا ایک اہم حصہ ہے، جہاں آج بھی زائرین کو روحانی سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ یہ مقام نہ صرف ایک مزار ہے بلکہ روحانی تعلیمات اور خدمتِ خلق کا ایک فعال مرکز بھی ہے۔