دربار کی تاریخ: کلس شریف

حضور سیدن سرکار کا تعلق "کلس شریف" سے تھا، جو سرگودھا، گجرات اور جہلم کے سنگم پر واقع ایک پُرنور بستی ہے۔ یہ بستی دریائے جہلم کے جنوبی کنارے، ملکوال ریلوے اسٹیشن سے تقریباً چھ میل مغرب کی جانب آباد ہے۔ یہی مقام آپ کی جائے ولادت اور یہی آپ کی آخری آرام گاہ (مرقدِ منور) ہے。

کلس شریف کا علاقہ تاریخی اور روحانی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ مقام صدیوں سے روحانی تعلیمات اور خدمتِ خلق کا مرکز رہا ہے۔ دربار شریف کی عمارت اپنے اسلامی طرزِ تعمیر اور روحانی ماحول کے باعث زائرین کے دلوں میں خاص مقام رکھتی ہے。

⭐ روحانی سلسلہ چشتیہ صابریہ ⭐

سلسلہِ عالیہ کا مبارک شجرہ طریقت

1
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ
خاتم النبیین
سرورِ کائنات
2
حضرت علی ابن ابی طالب
کرم اللہ وجہ الکریم
3
حضرت خواجہ حسن بصری
رحمۃ اللہ علیہ
4
حضرت خواجہ عبدالواحد
رحمۃ اللہ علیہ
5
حضرت خواجہ فضیل بن عیاض
رحمۃ اللہ علیہ
6
حضرت سلطان ابراہیم بن ادھم بلخی
رحمۃ اللہ علیہ
7
حضرت خواجہ سدید الدین حذیفہ المرعشی
رحمۃ اللہ علیہ
8
حضرت خواجہ امین الدین ابی حبیرہ البصری
رحمۃ اللہ علیہ
9
حضرت خواجہ ممشاد علی دینوری
رحمۃ اللہ علیہ
10
حضرت خواجہ ابو اسحاق شامی چشتی
رحمۃ اللہ علیہ
11
حضرت خواجہ ابو احمد عبدال چشتی
رحمۃ اللہ علیہ
12
حضرت ابو محمد بن احمد زاہد چشتی
رحمۃ اللہ علیہ
13
حضرت خواجہ ناصر الدین ابو یوسف چشتی سرمدی
رحمۃ اللہ علیہ
14
حضرت خواجہ قطب الدین مودود چشتی
رحمۃ اللہ علیہ
15
حضرت خواجہ مخدوم حاجی شریف زندنی
رحمۃ اللہ علیہ
16
حضرت خواجہ عثمان ہارونی
رحمۃ اللہ علیہ
17
حضرت خواجہ معین الدین حسن سنجری اجمیری چشتی
رحمۃ اللہ علیہ
خواجہ غریب نواز
18
حضرت خواجہ قطب الدین بختیار اوشی کاکی
رحمۃ اللہ علیہ
19
حضرت خواجہ فرید الدین مسعود گنج شکر
رحمۃ اللہ علیہ
بابا فرید
20
حضرت مخدوم علاؤالدین علی احمد صابر کلیری
رحمۃ اللہ علیہ
مخدومِ کلیر
21
حضرت شمس الدین ترک پانی پتی
رحمۃ اللہ علیہ
22
حضرت خواجہ جلال الدین کبیر الاولیاء
رحمۃ اللہ علیہ
23
حضرت خواجہ شاہ نور الحق احمد عبدالحق
رحمۃ اللہ علیہ
24
حضرت خواجہ شاہ محمد عارف
رحمۃ اللہ علیہ
25
حضرت خواجہ شاہ کمال الدین
رحمۃ اللہ علیہ
26
حضرت خواجہ شاہ عبدالقدوس گنگوہی
رحمۃ اللہ علیہ
27
حضرت خواجہ شاہ جلال الدین تھانیسری
رحمۃ اللہ علیہ
28
حضرت خواجہ سید صدر الدین شاہ
رحمۃ اللہ علیہ
29
حضرت خواجہ قطب الدین
رحمۃ اللہ علیہ
30
حضرت خواجہ سید لطیف شاہ
رحمۃ اللہ علیہ
31
حضرت خواجہ قمر الدین
رحمۃ اللہ علیہ
32
حضرت خواجہ احمد شاہ
رحمۃ اللہ علیہ
33
حضرت خواجہ سید مردان علی شاہ چشتی صابری
رحمۃ اللہ علیہ
34
حضرت پیر بخش شاہ
المعروف پیر شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ
35
حضرت پیر محمد شاہ
رحمۃ اللہ علیہ
36
حضرت پیر سیدن شاہ چشتی صابری
رحمۃ اللہ علیہ
37
حضرت پیر گلزار حسین شاہ چشتی صابری
رحمۃ اللہ علیہ
38
پیرِ طریقت رہبرِ شریعت پیر شمیم صابر صابری
موجودہ سجادہ نشین
دامت برکاتہم

روحانی سلسلہ کی عظمت

یہ مبارک سلسلہ حضور نبی کریم ﷺ سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے واسطے سے
آج تک متصل و منسلک ہے۔ یہ سلسلہ چشتیہ صابریہ علم و عرفان، تقویٰ و طہارت،
اور خدمتِ خلق کی تعلیمات کا امین ہے۔



شجرۂ نسب

حضرت پیر سیدن شاہ چشتی صابری رحمۃ اللہ علیہ کا شجرۂ نسب مبارک حضرت غوث بہاء الحق زکریا رحمۃ اللہ علیہ سے ملتا ہے۔

برگزیدہ خانوادۂ ہاشمی قریشی اور روحانی وراثت:

حضور پیر سیدن شاہ چشتی صابریؒ، (کلس شریف).حضرت پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ المعروف (بھیرہ شریف) اور حضرت پیر محمد کرم شاہؒ المعروف دربارِ عالیہ (پیر کھارا شریف تحصیل پنڈ دادن خان)، یہ تینوں جلیل القدر اور برگزیدہ روحانی شخصیات ایک ہی معزز خانوادئہ ہاشمی قریشی سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان عظیم ہستیوں کا شجرۂ نسب ایک مستند اور روشن برگزیدہ ہستی سے براہِ راست شیخ الاسلام، مخدوم حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانیؒ المعروف حضرت غوثِ بہاء الحقؒ تک جا ملتا ہے۔ یہ مبارک خانوادہ صرف ماضی کی ایک درخشاں یاد نہیں بلکہ آج بھی اپنی روحانی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانیؒ کے اس معزز ہاشمی قریشی خاندان کے افراد آج بھی برصغیر سمیت انہی مختلف علاقوں پر آباد ہیں، جہاں اج بھی ان خانقاہوں سے دینِ اسلام کی خدمت، اصلاحِ باطن اور مخلوقِ خدا کی روحانی تربیت میں مصروفِ عمل ہیں۔ صدیوں سے جاری یہ روحانی وراثت کسی وقتی تحریک کا نتیجہ نہیں بلکہ اخلاص، تقویٰ اور خدمتِ خلق پر قائم وہ مقدس امانت ہے جس کے امین یہ برگزیدہ ہستیاں اور ان کا خانوادہ ہیں، اور جن کے فیوض و برکات آج بھی طالبانِ حق کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

شجرۂ نسب مبارک

حضرت غوث بہاء الحق زکریا سے حضرت پیر سیدن شاہ تک

  1. 1
    حضرت غوث بہاء الحق زکریا
    رحمۃ اللہ علیہ
  2. 2
    حضرت مخدوم علاؤالدین
    رحمۃ اللہ علیہ
  3. 3
    حضرت مولانا جلال الدین
    رحمۃ اللہ علیہ
  4. 4
    حضرت شاہ ابوالخیر
    رحمۃ اللہ علیہ
  5. 5
    حضرت شیخ شمس الدین
    رحمۃ اللہ علیہ
  6. 6
    حضرت پیر محسن
    رحمۃ اللہ علیہ
  7. 7
    حضرت پیر عبداللہ
    رحمۃ اللہ علیہ
  8. 8
    حضرت شیخ لکھا
    عرف شیخ شہاب الدین رحمۃ اللہ علیہ
  9. 9
    حضرت شاہ معین الدین
    رحمۃ اللہ علیہ
  10. 10
    حضرت پیر ابوالقاسم
    رحمۃ اللہ علیہ
  11. 11
    حضرت غلام بہاء الدین
    رحمۃ اللہ علیہ
  12. 12
    حضرت شیخ طاہر
    رحمۃ اللہ علیہ
  13. 13
    حضرت پیر یاسین
    رحمۃ اللہ علیہ
  14. 14
    حضرت شیخ یعقوب
    رحمۃ اللہ علیہ
  15. 15
    حضرت شیخ وزیر الدین
    رحمۃ اللہ علیہ
  16. 16
    حضرت شیخ بہاء الدین خورد
    رحمۃ اللہ علیہ
  17. 17
    حضرت شیخ محمد لہرا
    رحمۃ اللہ علیہ
  18. 18
    حضرت عطاء اللہ
    رحمۃ اللہ علیہ
  19. 19
    حضرت شیخ قطب
    رحمۃ اللہ علیہ
  20. 20
    حضرت شیخ ہاشم
    رحمۃ اللہ علیہ
  21. 21
    حضرت شیخ حبیب اللہ
    رحمۃ اللہ علیہ
  22. 22
    حضرت شیخ محمد اشرف
    رحمۃ اللہ علیہ
  23. 23
    حضرت پیر ہاشم
    رحمۃ اللہ علیہ
  24. 24
    حضرت پیر محمد شافعی
    رحمۃ اللہ علیہ
  25. 25
    حضرت پیر محمد صدیق
    رحمۃ اللہ علیہ
  26. 26
    حضرت پیر یاسین
    رحمۃ اللہ علیہ
  27. 27
    حضرت پیر بخش شاہ
    المعروف پیر شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ
  28. 28
    حضرت پیر محمد شاہ
    رحمۃ اللہ علیہ
  29. 29
    حضرت پیر سیدن شاہ چشتی صابری
    رحمۃ اللہ علیہ (1908-1973)
  30. 30
    حضرت پیر گلزار حسین شاہ صابری
    رحمۃ اللہ علیہ (1934-1991)
  31. 31
    حضرت پیر شمیم صابر صابری
    موجودہ سجادہ نشین

📚 ماخذ: شاہکارِ صابر (سیرتِ سیدن) - تصنیف: حضرت پیر گلزار حسین شاہ صابری رحمۃ اللہ علیہ

تاریخی اہمیت

برِصغیر پاک و ہند کا خطہ روزِ اول سے ہی اللہ کے برگزیدہ اور انعام یافتہ بندوں کا مسکن رہا ہے۔ ان نفوسِ قدسیہ نے اپنے پاکیزہ کردار، حسنِ اخلاق اور عملِ پیہم سے دلوں کی تسخیر کی۔ ان کی حیاتِ طیبہ زہد و اتقا، عبادت و ریاضت، طہارت، سخاوت، شجاعت اور پیکرِ مہر و وفا کا ایک روشن مینار ہے۔

کلس شریف کا دربار شریف اسی روحانی ورثے کا ایک اہم حصہ ہے، جہاں آج بھی زائرین کو روحانی سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ یہ مقام نہ صرف ایک مزار ہے بلکہ روحانی تعلیمات اور خدمتِ خلق کا ایک فعال مرکز بھی ہے۔