موضع بارہ خانیاں گیلانیاں سیداں ضلع گڑگاؤں (بھارت)
آپ جناب حضرت سید احمد شاہ صاحب صابری آستانہ صابریہ دہلی (بھارت) کے دستِ حق پرست پر بیعت مشرف ہوئے۔
حاضری کے دوران حضور مخدوم علاؤ الدین علی احمد صابر کلیری نے عالمِ مثال میں ایک روحانی امانت دے کر آپ کو پنجاب بھیجا۔ اس امین صابر نے یہ امانت صاحبِ امانت کے دادا پاک حضرت پیر بخش صاحب المعروف پیر شاہ صاحب کو بیعت فرما کر منتقل فرمادی انہوں نے یہ امانت اپنے پوتے حضرت پیر سیدن شاہ صاحب صابری کو گھٹی کی صورت میں اور دوبارہ اپنی زبان پاک چوسا کر منتقل فرمادی۔ بعد میں آپ کے تایا جان حضرت پیر عبداللہ شاہ صاحب صابری نے آخری وقت آپ کو اپنے سینے سے لگا کر اور آپ کے والد گرامی جناب حضرت پیر محمد شاہ صاحب صابری نے آپ کو بیعت فرما کر اس امانت کی مزید تصدیق فرمادی جہاں سے ہزاروں اکابرین اور خلقِ کثیر نے صابری فیض حاصل کیا۔ آپ کا آستانہ آج بھی مرجع خلائق ہے۔
سرکار سیدن پیا ؒ کے مرشد کامل حضرت سید مردان علی شاہ صابری ؒ دربارِ عالی مگھو پنڈی شریف نزد پھالیہ گجرات سلسلہ صابریہ کے عظیم المرتبت بزرگ تھے۔ آپ کی پیدائش موضع بارہ خانیاں گیلانیاں ضلع گوڑگانواں "بھارت" میں ہوئی۔ آپ حضرت پیرانِ پیر غوثِ اعظم میراں محی الدین شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کی اولاد سے ہیں۔
تعلیم و تربیت اور بیعت حضرت پیر احمد شاہ صابری ؒ کے زیرِ سایہ دہلی میں مکمل ہوئی۔ دینی، اخلاقی اور روحانی تکمیل کے بعد آپ کو پیر و مرشد درگاہ صابر ؒ کلیر شریف میں لے آئے، مخدوم صابر ؒ کی درگاہ میں ایک مدت قیام فرمایا۔ فیوضِ باطنی سے مالامال ہوتے رہے۔
ایک روز خواب میں حضور مخدوم پاک ؒ نے آپ کو پنجاب میں جانے کا حکم دیا اور اس آیتِ کریمہ کے تحت:
اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَهْلِهَا ﴿النساء، ۵۸﴾
فرمایا میری مقدس امانت کے امین بن کر جاؤ اور اس سرزمین پر نامِ حق بلند کرو اور یہ خصوصی امانت اصل حقدار تک پہنچا دو۔
حضرت مردان علی شاہ ؒ اپنے پیر و مرشد سے دُعائیں لے کر پیدل روانہ ہوئے۔ راستہ میں لدھیانہ انبالہ وغیرہ اضلاع میں اپنے پیر و مرشد کا عطا کردہ سرمہ میرہ عطا کرتے رہے۔ نابینا لوگوں کو تلاش کر کے ان کی آنکھوں میں سرمہ ڈالتے۔ اللہ تعالیٰ بینائی عطا فرما دیتا۔ اس علاقہ میں سرمے شاہ کے نام سے مشہور ہو گئے۔
آپؒ اپنی منزل کی طرف رواں تھے۔ آہستہ آہستہ گجرات پہنچ گئے۔ گجرات سے پھالیہ آنے والی کچی سڑک پر محوِ سفر ہوئے۔ گرمیوں کا موسم تھا۔ سڑک پر چلتے مسافروں کو دور دور تک پانی نہ ملتا تھا۔ آپ ؒ کو بھی اس صورتِ حال کا سامنا ہوا۔
آپ نے موضع پھالیہ میں آ کر گاؤں کے سردار چوہدری سکھا خان تارڑ سے ملاقات کی جو کہ نہایت شریف طبع اور درویش منش انسان تھا۔ آپ نے اسے ایک اچھا سا مشکیزہ مہیا کرنے کی فرمائش کی۔ چوہدری نے حسبِ حکم مشک بنوا دی۔ آپ نے مشک کندھوں پر اٹھائی اور پھالیہ گجرات روڈ پر چل دیئے۔ راستے میں مسافروں کو پانی پلاتے۔ جہاں پانی ختم ہو جاتا سڑک پر لکیر کھینچ دیتے۔
نزدیک دور سے دوبارہ مشک بھر لاتے۔ لکیر کے نشان سے ازسرِنو پانی پلانا شروع کر دیتے۔ حقیقی بہشتی نے یہ کام چھ سال تک سرانجام دیا۔ بالآخر صحت خراب ہو گئی۔ ضعفِ جگر ہو گیا۔ مجبوراً یہ کام چھوڑ کر مگھو پنڈی گاؤں کے چوپال (دارہ) میں ڈیرہ لگا دیا۔
دارہ میں علی الصبح گاؤں کے چوہدری جمع ہو کر حقہ پیتے اور گپیں ہانکا کرتے تھے۔ آپ نے ان کی خدمت میں آگ مہیا کرنا ازخود اپنے ذمہ لے لیا۔ دن کو جنگل سے اپلے اور لکڑیاں چن کر لاتے۔ رات کو مچ تیار کرتے۔ صبح سویرے چوہدریوں کو حقوں کیلئے آگ مل جاتی۔ لوگ بڑے خوش تھے۔ بڑا اچھا فقیر ہے۔ بلند اخلاق ہے۔ بلا معاوضہ خدمت کرتا ہے۔
ایک روز چوہدریوں کی مجلس لگی ہوئی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ دریائے چناب کے کنارے موضع باہری کے بیلا میں ایک بہت بڑی پرانی لکڑی پڑی ہے۔ اگر اٹھوا لائیں تو کتنے ہی عرصہ تک آگ کا کام آسانی سے چلتا رہے گا۔ چوہدریوں نے مشورے کئے۔ تیاری کے ارادے بنے اور ٹوٹ گئے۔ مطلوبہ لکڑی نہ لائی جا سکی۔ وہ بہت بھاری بھرکم لکڑی تھی۔
لوگ حسبِ معمول ایک روز دارہ میں آئے تو لکڑی دارہ میں موجود پائی۔ سب حیران رہ گئے کہ یہ لکڑی کیسے آگئی۔ نہ کسی گڈے کی لکیر ہے نہ اونٹ اور گدھوں سے لائی جا سکتی ہے۔ نہ اس کی چرائی ہوئی ہے۔ آخرکار اس نتیجہ پر پہنچے یہ اس فقیر کی کرامت ہے۔ ہم نے بڑا ظلم کیا۔ اس اللہ کے ولی سے حقیر ڈیوٹی لیتے رہے۔ فقیر کا ادب شروع ہو گیا۔ اس پر آپ نے وہ گاؤں چھوڑ دیا اور کشمیر کی طرف سیر کیلئے چلے گئے۔ کافی سیر و سیاحت کے بعد اپنی مطلوبہ منزل پر تشریف لے آئے۔
موضع چک نظام نزد کلہ شریف کے قریب کانواں رولی دریائے جہلم کے جنوبی کنارے پر ڈیرہ لگا لیا۔ لوگ آنا شروع ہو گئے۔ چرچا عام ہوا تو علاقہ کے کچھ علمائے کرام اور معززین حاضر ہوئے۔ جن میں سیدن سرکار ؒ کے دادا جان پیر شاہ ؒ بھی شامل تھے۔
علماء کرام تو تبادلہ خیالات کے بعد واپس تشریف لے گئے۔ مگر حضرت پیر شاہ ؒ محفل میں بیٹھے رہے۔ حضور کی بصیرت افروز اور پیار بھری گفتگو سے مستفیض ہوتے رہے۔ جب حضور کے چہرہ پر نظر جماتے تو یوں محسوس ہوتا جیسے پیشانی سے ایک نورانی چمک نکلتی ہے اور آسمان کی طرف جاتی ہے اور پھر آسمان سے پلٹ کر پیشانی میں ضم ہو جاتی ہے۔
انہی نظاروں میں گم تھے کہ حضرت سید مردان علی شاہ ؒ نے مخاطب ہو کر فرمایا "پیر صاحب آپ نے بھی کوئی سوال پوچھنا ہے تو پوچھ لیں"۔ آپ نے عرض کیا حضور میں تو آپ کی نظر کرم چاہتا ہوں۔ فرمایا، میرا ایک پیغام بغور سن لیں۔ ایک مدت ہوئی آپ کی امانت لے کر دشوار گزار راہوں پر چلا ہوں۔ آج اپنی منزل پر پہنچا ہوں۔ آپ اگر چاہیں تو اپنی امانت لے سکتے ہیں۔
حضرت پیر شاہ ؒ کو حضرت پیر سیال ؒ کا پیغام یاد تھا۔ امین کی انتظار تھی۔ فوراً اٹھے اور قدموں میں جھک گئے۔ بیعت حاصل کی۔ اس طرح یہ خاندان چشتی صابری سلسلہ سے منسلک ہو گیا۔
فیض و اکرام کی دولت عطا فرما کر حضرت سید مردان علی شاہ ؒ نے وصیت فرمائی تھی کہ تمہاری پشت سے ایک صاحب بخت بچہ ہو گا۔ میری امانت اسے پہنچا دینا۔ حضرت پیر سیدن شاہ ؒ حضرت پیر شاہ ؒ کے پوتے تھے۔ جب سرکار ان کے چھوٹے لڑکے پیر محمد شاہ ؒ کے گھر پیدا ہوئے تو دادا جان نے بطور گھٹی اپنی زبان بچہ کے منہ میں ڈال دی۔ بچہ چوسنے لگا۔ آپ نے فرمایا "میں نے اپنے پیر و مرشد کے حکم کے مطابق ان کی امانت صحیح و سلامت اصل امین اور حق دار تک پہنچا دی ہے"۔
ایک رات صابری فقیر کی محفل چک نظام میں آپ کے مقدس ڈیرے پر جمی ہوئی تھی۔ رات آدھی گزر چکی تھی ستاروں نے چاند کے گرد ہالہ بنا رکھا تھا اور زمین کی طرف فرحاں فرحاں ٹکٹکی باندھے دیکھ رہے تھے کہ دھرتی پر اللہ کا ایک مقبول بندہ یادِ خدا میں مصروف ہے۔ گم گشتگانِ راہ کو صراطِ مستقیم کی ہدایت فرما رہا ہے۔ کفر کی تاریکی میں نورِ اسلام پھیلا رہا ہے۔
اس وقت تک حضورؒ کے کافی لوگ عقیدت مند ہو چکے تھے۔ آپؒ نے اچانک کلس شریف چلنے کا ارادہ ظاہر فرمایا۔ تمام اہلِ محفل ہمراہ چل دیئے۔ اسی قافلہ میں حضرت پیر شاہ ؒ بھی شامل تھے۔
سردارِ خوباں می رود ہر سو ہجومِ عاشقاں
چابک سواراں یک طرف مسکیں گداہا یک طرف
رات کے سناٹے میں اللہ والوں کی یہ جماعت اپنے ڈیرے سے بجانبِ مغرب چل دی۔ پگڈنڈیوں سے گزرتے موضع کلس کے جنوب میں آنکلے۔ اس وقت موضع کلس کا جنوبی حصہ نہایت غیر آباد اور ویران جنگل تھا۔ لوگ اس طرف ڈر کے مارے نہیں آتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرف جنوں اور بھوتوں کا ڈیرہ ہے۔
یہ خوفناک جگہ ہے اس ویرانہ میں ایک جنڈ کا درخت تھا۔ یہ جماعت اس جنڈ کے نیچے آگئی۔ میرِ قافلہ نے آنکھیں بند کیں۔ جنڈ کی ٹہنی پکڑ کر کھڑے ہو گئے۔ اسی حالت میں کافی وقت گزر گیا۔ کسی میں پوچھنے کی جرات نہ تھی کہ حضور ؒ رات کے پچھلے پہر اس جنگل بیابان میں آنے کا مقصد کیا ہے۔
کافی دیر خاموشی کے بعد اللہ کے ولی نے حضرت پیر شاہ ؒ کی طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا کہ یہاں پیر صاحب کے بڑے میلے ہوا کریں گے، فیوض و برکات کی دولت بٹے گی۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں آج کل سرکار سیدن ؒ کا مزارِ پُر انوار ہے۔ حضورؒ کے دربار کی جامع مسجد اور محفل خانے سج رہے ہیں۔ ہر روز میلے لگے ہوئے ہیں۔
ایک سو پچاس (150) برس پرانی بات آج ایک حقیقت کے روپ میں اظہر من الشمس ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں حضرت پیر شاہ ؒ پیر عبد اللہ شاہ ؒ اور پیر محمد شاہ ؒ کے مدفن ہیں۔ یہیں تمام عمر حضرت پیر سیدن شاہ ؒ نے فریضہِ تبلیغِ دینِ حق انجام دیا۔ لاکھوں پیاسوں کو جامِ حقیقت سے سرشار کیا اور آج یہاں ہر روز اللہ کے مقبول بندہ کے میلے لگے ہوئے ہیں۔
سرکار بچپن ہی میں والدہ ماجدہ سے اولیاء سلف کا ذکر سنتے رہتے تھے۔ بالخصوص حضرت سید مردان علی شاہ ؒ کا ذکر خیر اکثر جاری رہتا۔ ان کے فیض و اکرام بیان ہوتے رہتے تھے۔ ننھے سے دل میں زیارت کا شوق پیدا ہوا۔
ایک دن والدہ ماجدہ سے کہا میں سید مردان علی شاہ ؒ کے دربار پر حاضری دینا چاہتا ہوں، شفیق ماں نے فرمایا، بیٹا تم قرآن شریف پڑھ رہے ہو، جب قرآن پاک ختم کر لو گے، کل کر چلیں گے، حاضری دیں گے۔ دونوں مل کر قرآن پاک کی تلاوت کریں گے اور ختم شریف کا ثواب حضور کی نذر کریں گے۔ بیٹا قرآن پاک کا ختم ان بزرگوں کے لیے عظیم تحفہ ہوتا ہے۔ ابھی تم دل لگا کر پڑھو۔ تمہارا دلی شوق پورا ہونے کا وقت بھی بہت قریب آجائے گا۔
بحمداللہ قرآن شریف مکمل ہوا۔ سرکار نے اپنی والدہ محترمہ کو دربار مردان علی شاہ ؒ میں حاضری کیلئے کہنا شروع کردیا۔ حسب وعدہ والدہ محترمہ بچہ کو ساتھ لے کر دربار سید مردان علی شاہ ؒ مگھو پنڈی شریف حاضر ہوئیں۔ اس وقت مزار کچا تھا۔ چار دیواری بھی کچی تھی۔ قریب کچھ سایہ دار درخت تھے۔ ایک کچا مکان اور کنواں تھا۔ سرکار نے قرآن پاک بڑے شوق سے پڑھا۔ ختم قرآن کے ایصال ثواب کے بعد مائی صاحبہ نے اپنے اکلوتے بچے کے لیے دست دعا بلند کئے۔
قبلہ مائی صاحبہ ختم قرآن پاک سے فارغ ہو کر صاحب مزار سے مخاطب ہوئیں، عرض کی قبلہ ؒ آپ نے مجھے اس بچہ کی پیدائش سے قبل خواب میں مبارکباد دی تھی اور مجھے بہتر تربیت کا حکم صادر فرمایا تھا۔ اس کے ساتھ وضاحت فرمائی تھی کہ یہ وہ بچہ ہے جس کی امانت لے کر میں دیار کلیئر سے روانہ ہوا۔ اس کی امانت ایک ثقہ امین کے حوالے کر کے میں دنیا سے رخصت ہوا۔ آپ نے فرمایا تھا تیرا بچہ عظیم انسان، عظیم ولی اللہ بنے گا۔
میں آج اسے اس کے شوق کے مطابق ساتھ لے کر دربار فلک وقار میں حاضر ہوں۔ اس پر خصوصی نظر کرم فرمائی جائے۔ گڑگڑا کر دُعائیں مانگتے اور روتے روتے مائی صاحبہ کی آنکھ لگ گئی۔ خواب میں وہی صورت نظر آئی جو چند سال قبل خواب میں مبارکباد دینے آئی تھی۔
مائی صاحبہ نے دیکھا کہ بزرگ بچہ کو پیار دے رہے ہیں۔ پیشانی چوم رہے ہیں اور مجھے فرما رہے ہیں کہ تیرا بچہ اولیاء کرام میں ممتاز مقام حاصل کرے گا۔ صاحب بخت اور صاحب کرم ہوگا۔ اس کے گھوڑے کی ایک ایک رکاب کے ساتھ ستر ستر صالحین چلا کریں گے اور یہ سلسلہ کی بڑی خدمت کرے گا۔ اس کے وجود سے میرا اور اس کے آباؤ اجداد کا نام بھی روشن ہوگا۔
خواب ختم ہوا۔ مائی صاحبہ کی آنکھ کھلی دیکھا تو حسین وجمیل معصوم بچہ اپنے ننھے ننھے ہاتھ اٹھائے کچھ دُعا مانگ رہا تھا۔
من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی
تاکس نہ گوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری
مائی صاحبہ دربار سے اٹھ کر ایک طرف درخت کے سایہ میں بیٹھ گئیں۔ معصوم زائر نے ننھی سی زبان میں مائی صاحبہ سے پوچھا، اماں جان آپ فرماتی ہیں سید مردان علی شاہ ؒ بہت بڑے ولی اللہ ہیں۔ مگر ان کا مزار کچا ہے۔ روضہ بھی نہیں ہے۔
مائی صاحبہ نے جواب دیا، بیٹا ولی تو ولی ہی ہوتے ہیں، مزار کچا ہو یا پکا، مزار یا روضہ کی پختگی خوبصورتی ماننے والے غلاموں کی احسان مندی کا ثبوت ہوتی ہے۔ سنو بیٹا، جب تم جوان ہو گے ان کا مزار اور روضہ پکا اور خوبصورت بن جائے گا۔ میلے لگ جائیں گے۔ یہاں بڑی رونقیں ہوں گی۔ یہ تیرے پیر و مرشد ہیں تیرے امانت دار ہیں ان کی خدمت کا حق بھی تم پر بنتا ہے۔ یہ خدمت کوئی اور کیوں کرے۔
یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات ہے
یہ خدمت ہمیشہ تیرے، تیری اولاد اور تیرے عقیدت مندوں کے ذمہ ہوگی۔ جن لوگوں پر اس سراپا کرم ہستی نے احسان فرمایا ہے انشاء اللہ مالک یہ خدمت انجام دینے والوں کو دین و دنیا کی دولت سے مالا مال رکھے گا۔
قبلہ مائی صاحبہ کی یہ پیشین گوئی حرف بحرف پوری ہوئی۔ سرکار نے حضرت مردان علی شاہ ؒ کا پہلا روضہ 1930ء میں مکمل کرایا اور مسجد بنوائی۔ لنگر خانہ اور محفل خانہ بنوایا۔ دوبارہ انہی عمارات اور روضہ کی تعمیر سرکار نے 1964ء میں مکمل کرائی۔ مسجد حضور کے غلاموں اور راقم الحروف نے مکمل کرائی۔ لنگر خانہ دوبارہ تعمیر ہوا اور دیگر ضروریات کے مکانات تعمیر ہوئے۔
روضۂ انور قبلۂ عالم حضرت سید مردان علی شاہ صاحب صابریؒ
یکم جنوری ۱۹۶۴ء مطابق شعبان ۱۳۸۳ھ
زیرِ قیادت نیّرِ افقِ ولایت حضرت پیر سید ن شاہ صاحب صابری مدظلہ العالی
سجادہ نشین صابری دربار کلس شریف ضلع سرگودھا
۲۰ دسمبر ۲۰۱۳ء مطابق ۲۸ محرم الحرام ۱۴۳۵ھ
زیر قیادت: حضرت پیر شمیم صابر صاحب صابری مدظلہ العالی
سیّد مردان علی شاہ نورِ چشمِ حیدری
آشنائے رازِ آں مخدوم صابر کلیری
زانکہ از فرمانِ صابر آمد اُوسوئے کلس
داد امانت شاہ سیدن را بحکمِ سروری
قصرِ اُو خوش منظر است و سالِ تعمیرش ثبات
زیرِ فرماں شاہ سیدن کز شمیمِ صابری
آپ نے ۱۸۸۵ء میں وصال فرمایا۔