حضرت پیر سیدن شاہ چشتی صابری

حضرت پیر سیدن شاہ چشتی صابری رحمۃ اللہ علیہ

1908 - 1973

ولادت با سعادت اور والدین

چمن میں پھول کا کھلنا تو کوئی بات نہیں
زہے وہ پھول جو گلشن بنائے صحرا کو

۲۴ اور ۲۵ نومبر ۱۹۰۸ء کی درمیانی شب تھی۔ نصف رات گزر چکی تھی۔ کلس کی نگری کی دھیمی دھیمی خوشبوؤں سے مہک رہی تھی۔ افلاک سے سلام آرہے تھے۔ کلس کی ساری وادی، وادیِ ایمن بن چکی تھی۔ آج اولیاء اللہ کے خوابوں کی تعبیر ہونے والی تھی۔ آج کسی کی نیک اور عاجزانہ دعاؤں کا ثمر ملنے والا تھا۔ آج لاکھوں دکھی دلوں کا سہارا آنے والا تھا۔ آج باوا الہٰی بخشؒ کے گھر علم، فقر، محبت اور سخاوت کا سورج طلوع ہونے والا تھا۔ آج پیر کا دن ہے صبح صادق کا نورانی وقت ہو چکا ہے کہ کسی نے حضرت پیر شاہ رحمہ اللہ علیہ کو پیرِ زمانہ کی آمد کی خوشخبری سنائی۔ سرکار کے دادا جان نے نوافلِ شکرانہ ادا کئے۔ خوشی سے پھولے نہ سمائے۔ حضرت پیر شاہ رحمہ اللہ علیہ کان میں اذان پڑھنے کے لیے گئے ابھی آپ نے اذان پڑھنا تھی کہ مؤذنِ مسجد کی اذان شروع ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے نے دنیا میں آکر پہلی آواز اللہ اکبر کی سنی۔ حضرت پیر شاہ رحمہ اللہ علیہ نے اذان پڑھی۔ حسبِ حکمِ مرشدِ کامل نے اپنی زبان بطور گھٹی نو مولود کے منہ میں دے دی۔ بچہ زبان چوسنے لگا اور اس طرح آپ نے سرکارِ مدینہ ﷺ کی وہ سنت تازہ کردی، جب آپ ﷺ نے اپنی زبانِ مبارک جناب علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے منہ میں بطور گھٹی دی تھی صبح سویرے لوگ جوں جوں سنتے، خوشی خوشی بچہ کو دیکھنے کیلئے آتے۔ جو دیکھتا اُس کی زبان سے بے ساختہ سبحان اللہ نکل جاتا۔ حسین و جمیل صاحب بخت شہزادہ گلشنِ ہاشمی کا پھول تھا۔ ایک طویل مدت کے بعد اس گھر میں پہلا بچہ ہونے کی وجہ سے بہت پیارا تھا۔ یہ بچہ اپنے دامنِ کرم میں کئی خوشیاں، سعادتیں اور برکتیں سمیٹ لایا۔ تمام گھر خوشیوں کا گہوارہ بن گیا۔ رجالِ غیبی مبارک دینے آئے۔ اولیاءِ عصر نے خوشی کے ترانے گائے۔

خزاں کے طول سے دل کی کلی مرجھائی جاتی تھی
بہاروں کو جلو میں لے کر وہ محشر خرام آیا

تربیت

پیدا کرنے والا جس قدر کوئی گوہر انمول اور بلند قیمتی موتی پیدا کرتا ہے، اسی قدر اس کا صدف اور درج بھی بلند مرتبہ اور بلند عزت بناتا ہے۔ جتنا بچہ کو عظیم ہونا تھا، پہلے اس کی ماں کو اتنا ہی عظیم بنایا گیا تھا۔ ہیرا بذات خود ایک قیمتی پتھر ہے مگر اس کی اصل دلکشی و جاذبیت اس کی تراش سے نکھرتی ہے۔ ذہن قابل تو ذہن قابل ہی ہوتے ہیں مگر اصل راز بہتر تربیت میں مضمر ہے۔

سرکار کی والدہ محترمہ عظیم ماں تھیں۔ عابدہ زاہدہ تھیں، پاکیزہ کردار، خوش اطوار، پاکیزگی و طہارت کا مجموعہ تھیں۔ وہ ہونے والی بلند مرتبت شخصیت کی تربیت کا فریضہ بھی بطریق احسن نبھا سکتی تھیں۔ ماں نے اپنے اکلوتے بچے کو اسلامی تعلیم کے سانچے میں ڈھالا۔

بچہ ماں کی گود ہی سے نیکی، طہارت، عبادت اور پاکیزگی کا خزانہ لے کر نکلا تھا۔ بچے نے جب زبان کھولی، بولنا شروع کیا تو پہلا لفظ "اللہ" زبان سے نکلا۔ اور تمام عمر اللہ، اللہ کا ورد ہی جاری رہا۔ وہ دیگر بچوں کی طرح عام کھیلوں سے شغف نہیں رکھتے تھے۔ ماں کو نماز پڑھتے دیکھ کر نماز پڑھنے لگ جاتے۔ ماں کی طرح وضو کرتے اور ماں کی طرح اپنے ننھے ننھے ہاتھوں میں تسبیح پھیرتے رہا کرتے۔

شفیق ماں نے وضو، نماز اور تلاوتِ قرآن کا عادی بنا دیا۔ لوگ آپ کی میٹھی میٹھی گفتگو سننے کیلئے اکٹھے ہو جایا کرتے۔ بزرگ حضرات آپ کو اپنے کندھوں پر اٹھائے پھرتے اور آپ کی گفتگو سے محظوظ ہوتے تھے۔ لوگ اپنے مویشی یا انسان بیمار ہونے کی صورت میں آپ سے دم کراتے۔ جس سے اللہ تعالیٰ مریضوں کو شفا عطا فرماتے۔

ہجومِ خلائق ہے بہر زیارت
نہیں ان کو بچپن میں بھی کوئی فرصت

بچپن کے حالات

بچپن ہی میں آپ کی طبع سوز و گداز سے لبریز تھی۔ وجود مسعود فیوض و برکات کا چشمہ تھا۔ علاقہ کے لوگ انسان یا مویشی بیمار ہونے کی صورت میں آپ سے دم کراتے۔ بیمار بفضلہ تعالیٰ صحت یاب ہو جاتے۔ کبھی آپ محو خواب ہوتے تو لوگ چارہ یا روٹی آپ کے لبوں سے چھو کر لے جاتے اور بیماروں کو کھلاتے تو مالک شفا عطا فرما دیتا۔

بچپن میں آپ ساہنا کے قریبی ٹبہ پر مویشیوں کے چرواہا بنے رہے۔ ممکن ہے یہی وجہ ہو کہ وہ ٹبہ جو کبھی چٹیل میدان اور جنگل بیابان تھا آج سبزہ زار اور خوشنما عمارتوں میں ڈھل چکا ہے۔ حضور سیدن سرکار ؒ کمسنی میں ہی عظیم اخلاق، پاکیزہ عادات اور عظیم شخصیت کے حامل تھے۔

ہجرت کے ایام موضع ساہنا میں گزار رہے تھے، نہایت غربت کے حالات سے دوچار تھے۔ کئی کئی روز فاقوں تک نوبت آ جاتی مگر کسی حالت میں یادِ خدا سے غافل نہ رہتے۔ مصروفِ عبادت رہتے اور سب حالات امتحان کی گھڑیاں سمجھ کر خندہ پیشانی سے برداشت کرتے۔ آپ کی والدہ محترمہ اور آپ نے کبھی کسی کے سامنے دستِ سوال دراز نہ کیا۔ صبر و استقامت، استغناء، حوصلہ اور زہد و ریاضت کا نمونہ بنے رہے۔

گلشن قفس بہار گریباں جنوں خرد
مربوط ان سے بزمِ خرابات ہو گئی

حصولِ تعلیم

ابتدائی تعلیم پرائمری سکول ہریانہ سے اور دینی تعلیم مفتی غلام مرتضیٰ صاحب آف میانی کے زیرِ سایہ حاصل کی۔ طب یونانی الحاج میاں سلطان محمود صاحب موضع کوٹلی گل محمد سے پڑھی۔ علم حق سرکار کو غیب سے عطا ہوا۔

علم حق در سینہ می آید بطرف سینہ ہا
بے معلم طفل ایں مکتب سخنور می شود

تلاشِ مرشد

​آپ زاہد تھے، متقی تھے۔ بڑے عبادت گزار اور صاحبِ کشف و کرامات تھے۔ شب و روز عبادت میں محو رہتے۔ آپ سے کئی کرامات ظہور میں آچکی تھیں اس کے باوجود اپنے آپ میں کمی محسوس کرتے۔ سلوک و تصوف کی کٹھن راہوں میں مرشدِ کامل کی اشد ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔ یہ سب اپنے والدِ گرامی کی بہتر تعلیم و تربیت کا نتیجہ تھا۔ نیک ماں کے پاکیزہ شیر کا اثر تھا کہ آپ کی طبع نیکی کی طرف راجع تھی۔ دنیا کی کوئی دلفریبی دھوکہ نہ دے سکتی تھی۔ کئی بزرگوں کی خدمت میں حاضر ہوئے مگر دل کی تسلی نہ ہوئی اور نہ کہیں بیعت ہوئے۔

​سیال شریف حاضری

​حضرت سید حیدر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ آستانہ عالیہ جلال پور شریف آپ کے دوست اور محرمِ راز تھے۔ دونوں حضرات باہم مشورہ کے بعد خواجہ شمس العارفین رحمتہ اللہ علیہ آستانہ عالیہ سیال شریف کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مشرفِ بیعت ہونے کی درخواست کی۔ مردِ کامل کی نگاہِ حق میں نے سب کچھ دیکھ لیا۔ سید حیدر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ کو باوضو ہو کر حاضر ہونے کا حکم دیا اور دستِ حق پرست پر بیعت فرما لیا مگر حضرت پیر بخش شاہ رحمتہ اللہ علیہ کو فرمایا کہ تمہارا حصہ میرے پاس نہیں تمہاری امانت لے کر ایک صابری بزرگ چلا ہوا ہے تم انتظار کرو۔ وہ مردِ کامل خود تمہارے پاس پہنچ جائے گا۔ تمہارا حصہ تمہیں مل جائے گا۔ تم اپنے وظائف جاری رکھو۔ حضرت پیر شاہ رحمتہ اللہ علیہ کا یہ پیغام حق آگاہ سن کر وہ واپس آگئے اور شب و روز انتظار میں کٹنے لگے۔ یہ راز حضرت سید مردان علی شاہ صابری رحمتہ اللہ علیہ کی ملاقات پر کھلا۔ (اس ملاقات کا ذکر حضرت سید مردان علی شاہ صابری رحمتہ اللہ علیہ کے حالات میں آئے گا۔ جہاں پر حضرت پیر بخش رحمتہ اللہ علیہ کی بیعت کا واقعہ درج ہے)۔

سلسلہ بیعت

​یہ گیسوؤں کی گھٹائیں لبوں کے میخانے
نگاہِ شوق ابھی کہاں کہاں ٹھہرے

​سرکار سیدن رحمتہ اللہ علیہ کا سلسلہ بیعت چند واسطوں سے حضور مخدوم علاؤ الدین علی احمد صابر کلیری ختم الارواح سلطان الاولیاء رحمتہ اللہ علیہ سے جا ملتا ہے۔ حضور صابر سرکار رحمتہ اللہ علیہ کا فیضِ باطنی سید مردان علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے توسل سے یہاں تک پہنچا سید مردان علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ اپنے مرشد پاک کا اشارہ پا کر پنجاب میں دولتِ چشتیہ کے امین بن کر آئے اور سرکارؑ کا عطا کردہ فیض حضور سیدن سرکار رحمتہ اللہ علیہ کے دادا جان حضرت پیر بخش رحمتہ اللہ علیہ کے حوالے کیا۔ فرمایا میری یہ روحانی غیبی امانت اپنے پوتے کے حوالے کرنا۔ جو انشاء اللہ سلسلہ کی عظیم خدمت کرے گا۔ یہاں تمہارے گھر سے فیض کا چشمہ جاری ہو گا۔ تشنہ لب سیراب ہوں گے۔ سرکار سیدن رحمتہ اللہ علیہ کی بیعت سید مردان علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ سے براہِ راست غائبانہ بطریقِ خضریہ اویسیہ ہے۔ سرکار سیدن رحمتہ اللہ علیہ بلاواسطہ سید مردان علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ سے فیض یاب ہیں۔ سلسلہ کی چند اہم شخصیات کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں۔

حضور سیدن شاہ چشتی صابری ؒ کا ننگے پاؤں سفرِ کلیر شریف

یوں تو زندگی میں انسان کو کئی مختلف سفروں سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ جن کی الگ الگ نوعیت ہوتی ہے۔ کوئی سفر کسی خاص مقصد کے حصول کیلئے ہوتا ہے اور کوئی محض سیر و تفریح کیلئے۔ کوئی سفر تجارت کے لیے، کوئی سفر خوشی اور کوئی غم کیلئے ہوتا ہے۔ کسی میں کوئی ذاتی منفعت پوشیدہ ہوتی ہے۔ کوئی سفر کسی کو ملنے کیلئے، کوئی کسی سے بچھڑے کیلئے زندگی بذات خود بھی ایک سفر ہے۔ جو چند چھوٹے بڑے سفروں کے مجموعہ کا نام ہے۔ مگر جس مقدس سفر کا مجھے ذکر کرنا ہے، اس میں کوئی ذاتی منفعت پوشیدہ تھی نہ کسی منافع بخش کاروبار پر نظر۔ یہ صرف اور صرف محبوبِ حقیقی کی طلب اور پیار کا سفر تھا۔ جس میں ایک عزم بلند، ایک عظیم مقصد کے حصول کے لئے ان جانے راہ پر بے زادِ سفر چل نکلا۔ اس راہی کے پاس عزمِ بلند، محبت لازوال اور شوقِ بے پایاں کے سوا کوئی زادِ راہ نہ تھا۔ پیشِ نظر کوئی دُنیاوی، ذاتی یا مادی مقصد بھی نہ تھا۔ مقصد تھا تو محض محبوبِ حقیقی کی رضا جوئی محبت اور چاہت تھی۔ عشقِ رسول ﷺ تھا اور حبِ صابرؒ کی کار فرمائی تھی۔ اللہ کا طالب اللہ کے لئے اللہ والے کے دربار پر حاضر ہو رہا تھا۔ دل میں پیار اور محبت کی ایک ایسی کشش تھی جو راہ کی تکلیفوں، سفر کی صعوبتوں اور کٹھن منزلوں سے بے پروا کئے صرف ایک ہی طرف کھینچ رہی تھی۔

گاہ بہ حیلہ می برد گاہ بزور می کشد
عشق کی ابتداء عجب عشق کی انتہا عجب

آغازِ سفر

ایک روز سرکارؒ اپنے داداجان کے دربار کے قریب شہہ جنبہ کے درخت کے سایہ میں بیٹھے تھے۔ سائیں گلو بھی قریب بیٹھا اپنے پیر و مرشد کے جمالِ فیض مآب سے مستفیض ہو رہا تھا۔ سرکارؒ خاموش تھے۔ چہرا کبھی سرخ، کبھی سپید ہو رہا تھا۔ کبھی کبھی بے ارادہ آنکھیں پرنم ہو جاتی تھیں۔ چہرہ پر کسی گہری سوچ کے آثار نمایاں تھے۔ لوگوں کو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے سرکارؐ بظاہر یہاں موجود ہوں، حقیقتاً کسی دور دلکش اور رنگین وادی میں کھو چکے ہوں۔

تصورِ عرش پر ہے اور سر ہے پائے ساقی پر
نرالی دھن میں یارو اس گھڑی مے خوار بیٹھے ہیں

​کلیئر کی سہانی دھرتی دل و دماغ پر چھا چکی تھی۔ قاصدِ محبت درپردہ محبوب کے خفیہ پیغام پہنچا رہا تھا۔ دل قابو سے نکل رہا تھا۔ سرکارؐ اچانک اٹھ کھڑے ہوئے۔ گلوگیر آواز میں فرمایا۔ لوگو میں کلیئر جا رہا ہوں۔ شاید حضور نے بلا لیا ہے۔ اب یہاں ایک پل رُکنا بھی انتہائی مشکل نظر آتا ہے۔ یہ گھر نہیں مجھے قید خانہ دکھائی دیتا ہے۔ اور جائے امن صرف کلیئر کی گلی نظر آتی ہے۔ اب دیر کرنا گناہ ہے۔ سامانِ سفر باندھنا یا دیگر زادِ راہ تلاش کرنا بھی توہینِ محبت ہے۔ لو اب میں چلتا ہوں۔ جوتے وہیں اتارے، اسی لباس میں بے زادِ سفر چل پڑے۔ گلو نے آبدیدہ ہو کر عرض کی،

ببر ایں جاں مشتاقم در آنجا
فدائے روضہء خیرالبشر کن

​خدارا مجھے ساتھ لے چلیں۔ میرا اس بھرے جہان میں آپ کے سوا کوئی نہیں۔ میں پیچھے پیچھے با ادب چلوں گا۔ نہ بولوں گا نہ ستاؤں گا۔ پیچھے پیچھے خاکِ قدم چومتا جاؤں گا۔ لوگوں کو ساتھ چلنے کا ارشاد فرما دیا۔ دربارِ کس سے چند قدم چلے ہی تھے کہ راستہ میں اپنا بچہ راقم الحروف حسبِ معمول کھیل رہا تھا۔ بچہ بڑھ کر پاؤں سے لپٹ گیا، مگر راہِ حق کے مسافر نے کوئی اثر قبول نہ کیا۔ بچے کو جھٹک دیا، بچہ روتا رہا مگر مسافر زیرِ لب یہ کہتا ہوا چلتا رہا کہ مال اور اولاد کہیں راستہ کی رکاوٹ بن کر تو نہیں آ رہے۔ آنکھیں باوضو تھیں، دل و دماغ پر ایک ہی خیال غالب تھا کہ جیسے بھی ہو صابرؔ پر رسائی ہو جائے اور کوئی دل فریبی، اولاد، گھر، بار، مال، مویشی وغیرہ راستہ کی رکاوٹ نہ بن سکیں۔ راہِ حق کے مسافر نے کسی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ نگاہِ دل اپنی منزل پر جمی تھی۔ قدم سوئے کلیئر بڑھ رہے تھے۔

مئی کا مہینہ تھا۔ ملک وال شہر سے گزر رہے تھے۔ سورج غروب ہو چکا تھا۔ آندھی کے آثار بھی بن گئے تھے نہر لوئر جہلم پر بنائے گئے ریلوے پل کے ذریعے نہر عبور کر رہے تھے۔ گلو کو شہتیروں پر پاؤں رکھ کر گزرنا مشکل ہو گیا تھا کیونکہ نیچے دیکھنے سے اس کا سر چکراتا تھا۔ سامنے سے آنے والی گاڑی کی روشنی بھی نظر آ رہی تھی۔ گلو پیچھے بھی نہیں مڑتا تھا۔ پل سے گزرنا بھی دشوار تھا۔ سرکار نے بڑھ کر گلو کو اٹھا لیا اور نہر کے اس پار کنارے پر بحفاظت پہنچا دیا گلو اسے بے ادبی سمجھ کر پریشان تھا، رو رہا تھا۔ ادھر آندھی زور سے چل رہی تھی۔ سنگریزے، کانٹے اور خاردار جھاڑیاں جسم کو زخمی کر رہے تھے۔ قدم اٹھانا مشکل تھا۔ گلو نے کہیں ذرا ٹھہر جانے کا مشورہ دیا۔ اسی اثناء میں کچھ لوگ نظر آئے جو اندھیرے میں کسی کی گندم کی پکی ہوئی فصل چوری کر رہے تھے۔ آپ نے گلو سے فرمایا، دیکھو وہ کون لوگ ہیں اس نے کہا یہ چور معلوم ہوتے ہیں۔ آپ نے فرمایا، بدکار برائی کرتے ہوئے ان حالات سے نہیں گھبراتے اس طوفان میں بھی برائی کر رہے ہیں اور ایک تم ہو کہ راہِ صابر کے مسافر ہو کر رک جانے کا مشورہ دیتے ہو۔ ان کانٹوں، جھاڑیوں اور دشواریوں سے گھبرا گئے ہو۔ بھلا سوچو تم کتنے کم دل اور کم زور ہو؟

تندیِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

​سرکار بوقتِ عشاء موضع ساہنا پہنچ گئے۔ قبلہ مائی صاحبہؒ کے حضور حاضری دی۔ سلام و آداب بجا لائے۔ مائی صاحبہؒ نے پوچھا تم نے یہ کیا حالت بنا رکھی ہے؟ تم کہاں جا رہے ہو؟ عرض کی حضور ہم اس جگہ جا رہے ہیں جہاں سے مردہ اجسام کو زندگیاں ملتی ہیں۔ ہم کلیر جانا چاہتے ہیں۔ دُعا فرمائیں کہ حضور ہماری حاضری منظور فرمالیں اور اپنے خصوصی کرم سے نوازیں۔ صابرہ مائی صاحبہؒ نے فرمایا جاؤ بیٹا میری دلی دُعائیں تمہارے ساتھ ہوں گی۔ انشاء اللہ تم بامراد لوٹو گے۔ تم صابرؒ رحمۃ اللہ علیہ کے بلاوے پر جا رہے ہو۔ جنہیں وہ خود بلاتے ہیں تقدیریں سنوار دیتے ہیں۔ جھولیاں بھر دیتے ہیں۔

اپنا جانا اور ہے ان کا بلانا اور ہے

​یہ غنی کی شان کے شایان ہی نہیں کہ خود بلا کر سائل کو مایوس کریں۔ جاؤ تمہیں دربار سے وہ تحفہ ملے گا جو پہلے تمہارے ہاں نہیں۔ سرکارؐ نے عرض کی حضور ہمارے خاندان میں نیکی ہے۔ عبادت ہے، ولایت ہے۔ حضور مزید کیا ملے گا؟ فرمایا، جاؤ جب ملے گا تمہیں پتہ چل جائے گا کہ یہ انمول ہیرا پہلے نہ تھا۔ وہ ایسی عطا کرتے ہیں جو پشتوں تک رہتی ہے۔

من کی دُنیا ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں
تن کی دُنیا چھاؤں ہے آتا ہے دھن جاتا ہے دھن

کٹھن مسافت اور سوئے منزل

​سرکارؐ مع گلو اگلی صبح ساہنا سے سوئے کلیر روانہ ہوئے۔ گلو کو مائی صاحبہؒ نے ’’پٹیاں‘‘ بنا کر دی تھیں کہ راستہ میں بھوک لگے تو کھا لینا۔ کسی سے کچھ مانگنا نہیں، جو خود دے انکار نہ کرنا۔ یاد سے غافل نہ رہنا۔ مالک تمہارا حامی و نگہبان ہوگا۔ آپ ریلوے لائن کو راستہ بنا کر پیدل ننگے پاؤں چل رہے تھے۔ سائیں گھگو پیچھے پیچھے چپ سادھے محوِ سفر تھا۔ ریلوے لائن کی پٹری کے کنارے چل رہے تھے۔ خیال تھا کہ سڑکوں پر چلیں گے، جا بجا راستہ پوچھنا پڑے گا، ریلوے لائن سیدھی جائے گی۔ کہیں راستہ پوچھنے میں وقت کا ضیاع نہ ہوگا۔
​ننگے پاؤں تھے۔ لائن پر بچھے ہوئے پتھر قدموں میں چبھ رہے تھے۔ پاؤں میں چھالے بنتے اور خود ہی ٹوٹ جاتے۔ قدم لہولہان ہو چکے تھے، مگر موت و زندگی سے بے پرواہ ایک ہی لگن میں مگن سوئے منزل جا رہے تھے۔ کسی محبوب کی محبت کے دلنواز سندیسے آ رہے تھے۔ سبزہ زار کے پتے جھوم جھوم کر اپنی طرف بلا رہے تھے۔ زادِ سفر تھا نہ بظاہر واقفِ راہ تھے۔ دن کو سفر کرتے، رات کو راستہ سے ہٹ کر لیٹ جاتے۔ کئی شب و روز بھوکے پیاسے رہتے، کہیں پانی ملتا پی لیتے۔ کہیں کھانے کو پتے ساگ وغیرہ مل جاتا کھا لیتے۔ کسی سے کچھ مانگنا نہیں تھا۔ پندرہ روز کی مشکل اور نہایت کٹھن مسافت کے بعد راہِ محبت کے مسافر اپنی منزل پر پہنچ چکے تھے۔

راہیں تھیں ہولناک مگر بے خطر رہے
منزل ملی کہ آپ رفیقِ سفر رہے

​کوچہ جاناں سامنے تھا۔ دل شار ہونے کو بے تاب تھے۔ ادھر مقدس نگری کی پیاری پیاری عطر بیز لپٹیں دل و دماغ کو معطر کر رہی تھیں۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے مسرور کر رہے تھے۔ منزل پالینے کی خوشی کبھی آنسو کبھی مسکراہٹوں کبھی دیوانگی اور کبھی فرزانگی کا روپ دھار رہی تھی۔ لگاتار سفر اور پیہم بھوک پیاس کی شدت نے جسم نڈھال کر دیے تھے۔ پاؤں سوج چکے تھے اور پاؤں کے نرم و نازک تلوؤں میں راستہ کے نوکیلے سنگریزے چبھ گئے تھے، جن کی وجہ سے ایک قدم چلنا بھی محال تھا۔ انتہائی کمزوری اور نقاہت کے باعث بخار کی سی کیفیت محسوس ہو رہی تھی۔ دورانِ سفر تو کسی دکھ یا تکلیف کا احساس نہ تھا۔ اپنے آپ سے بے پرواہ صرف اور صرف قدم تیز کرنے سے کام تھا۔ تاہم اب دیارِ یار کے جلوے اور نظارے آنکھوں کے سامنے تھے۔

منم محوِ جمالِ او نمیدانم کجا رفتم
​منم غرقِ وصالِ او نمیدانم کجا رفتم

​اب ذرہ ذرہ مبارک باد کہہ رہا تھا۔ اب صابر کی نگاہِ کریمانہ بھی بہرِ استقبال آگئی تھی۔

بہکتا لڑکھڑاتا کون یہ مستِ خرام آیا
صراحی خود بخود جھکنے لگی گردش میں جام آیا

​اب منزل مل گئی تھی۔ وہ دیس جو کبھی خوابوں کی دنیا کا دیس تھا، جس کے لیے دل کی دنیا میں ڈیرے تھے۔ جو تخیلات و تصورات پر غالب تھا، اب حقیقتاً آنکھوں کے سامنے تھا۔ نظریں محوِ نظارہ تھیں۔ ہر ذرہ راہ کو نگاہیں چوم رہی تھیں۔

خاکِ کلیر تجھے سو بار بھی چوموں تو ہے کم
تو نے چومے ہیں کئی بار قدم صابر کے

​گولری اور مولسری کے سبز پتے اور ٹہنیاں جھوم جھوم کر اشاروں سے اپنے سایہ میں بلا رہے تھے۔ نہر گنگا کے کناروں سے ٹکرا کر آبِ گنگا کی مترنم لہریں خوشیوں کے گیت سنا رہی تھیں۔
​صابری مہمانوں نے نہر گنگا میں غسل کیا، باوضو ہو کر آہستہ آہستہ درگاہ شریف کے بڑے شرقی دروازہ پر آگئے والدین کی کریمانہ دعائیں ساتھ تھیں۔ مرشدِ پاک کی نگاہِ فیض بخش کا اثر معاونت فرما رہا تھا۔ دل سینوں میں رقص کناں تھے۔ ایک انجانا سا خوف بھی دل و دماغ پر مسلط ہو رہا تھا۔ اب کیا ہوگا؟ میں اور درِ یارِ صابر؟

چہ نسبت خاک را با عالم پاک
میری ہستی کہاں ان کی رفعت کہاں
​برسرم خاکِ دلا من کجا یار کجا
گلِ خوش رنگ کجا بلبلِ زار کجا

​اب میرا کونسا عمل اور کونسی نیکی کام آئے گی کہ میری درگاہِ صابر میں رسائی اور منظوری ہو جائے۔ شرقی بڑے دروازہ سے گزر کر صحنِ دربار میں پہنچے تھے کہ نظروں نے یکایک صابر پیا کے روضہ انور کے مرمریں درودیوار کو چوما۔ ہوش و خرد رخصت ہوئے۔ مدت کی اداسی، طلب اور تڑپ موتی بن بن کر آنکھوں سے ٹپکنے لگی وہیں پاؤں جم گئے، پہروں کھڑے رہے۔ نظر روضہ پر جمی تھی۔ پاؤں اٹھ نہ سکتے تھے، جسم بے سکت تھا۔

​اے ضعف مدد کر درِ جاناں پہ گرا دے
درباں یہ کہیں اٹھ، کہوں اٹھا نہیں جاتا

​سرکار کو صحنِ دربار میں با ادب کھڑے کافی وقت بیت گیا۔ ایک مستی و کیف کا عالم تھا۔ لوگ خدا جانے کیا سمجھتے ہوں گے اور کیا کہتے ہوں گے۔ تاہم

​خرد زنجیر پہناتی رہے گی یہ دیوانے ہیں، دیوانے رہیں گے

​گلو نے عرض کی سرکار دربار میں چلیں، کہیں دربار معمور نہ ہو جائے تاکہ حاضری ہو جائے۔ سرکار چلنے لگے تو دیکھا سامنے آگ دکھائی دی۔ فرمایا گلو مجھے صحنِ دربار میں آگ نظر آتی ہے۔ گلو نے عرض کی حضور آگ نہیں ہے۔ اگر آگ ہوتی تو مجھے بھی دکھائی دیتی یا دیگر زائرین بھی محسوس کرتے۔ فرمایا کرتے تھے میں سمجھ گیا۔ یہاں تو کوئی آگ نہیں ہے یہ میری اپنی آگ ہے۔ میں حاضرِ حضور ہونے سے پہلے جو کچھ کرتا رہا وہ آگ تھی۔ بے مرشد کئے گئے سب اعمال آگ تھے۔ میرا خاندانی بڑائی کا زعم آگ تھا۔ میری بے سوز عبادات اور ریاضات بھی آگ تھیں۔ یہ سب میری رکاوٹیں تھیں۔ بے ساختہ رونا شروع ہو گیا۔ اتنا رویا کہ ہچکیوں اور سسکیوں تک نوبت آگئی جذبات بے قابو ہوتے گئے، رونے میں آواز پر قابو نہ رہا اور چیخیں نکل گئیں۔

دھوئے گئے ہم اتنے کہ بس پاک ہو گئے

آواز بھی بھرائی ہوئی تھی۔ آنکھیں آنسوؤں کی بارش برسا رہی تھیں۔ دل دھڑک رہا تھا۔ دیوانگی تھی مدت کی اداسی و بے چینی تھی۔ ملاقات ہوئی تو سامنے آگ بچھی تھی۔ جسم تھر تھرا رہا تھا۔ دل قابو سے نکل رہا تھا۔ چند اشعار فی البدیہہ لکھے اور ترنم سے رو رو کر پیش کرنے لگ گئے۔

نواسہ گنجِ شکر ہوں در پہ تیرے آ کھڑا
پاس میرے کچھ نہیں اشکِ ندامت کے سوا

شاہِ مرداں کا وسیلہ لیکے عاصی آ گیا
نورِ چشمِ حضرتِ زہرا شبیہِ مرتضیٰ

صدقہ غوث الورٰی جھولی میری بھر پور ہو
بے کسوں کا آسرا ہو رحمتوں کی انتہا

​اشعار رو رو کر پیش کئے۔ آنسوؤں سے کاغذ بھیگ گیا۔

​نہ روتے بنے اور نہ ہنستے ہی بیدم
محبت کا ہے کچھ عجب کارخانہ

​اشعار ختم ہوئے، مالک کو رحم آگیا۔ سکون کی دولت مل گئی۔ آنسوؤں کے قطرے فوارے بن کر پھیلی ہوئی آگ پر برس رہے تھے۔ آگ بجھتی گئی بلکہ گلاب و یاسمین میں ڈھلتی گئی۔ سرکار صابر کی نگاہ کریمانہ بڑھی۔ دکھی، غمزدہ بے چین مسافر کو گلے لگا لیا۔ جسم میں جان آگئی۔ تھکاوٹ جاتی رہی۔ بخار اتر گیا۔ رونا تھم گیا، لبوں پر مسکراہٹ کھیلنے لگی۔ گلستان میں بہار آگئی۔

​تجھے کیا بتاؤں اے دلربا تیرے سامنے میرا حال ہے
تیری اک نگاہ کی بات ہے میری زندگی کا سوال ہے

حجرہ مل گیا

​اسی اثناء میں ایک پُرکشش چہرے والا درویش آیا۔ ان صابری مہمانوں کو ساتھ لیا۔ سعید میاں والے حجرہ کے سامنے کھڑا ہو گیا اور کہا پنجابی ساتھیو یہ حجرہ سرکار صابرؒ نے آپ کو دیا ہے۔ یہ رہی اس کی چابی، یہ پانی کا پمپ، گھڑا، پیالہ اور مصلیٰ ہے۔ مزید کسی شے کی ضرورت ہو تو مجھ سے لے لینا۔ آرام سے رہو۔ یہاں سے دربارِ عالیہ کی مسجد قریب ہے۔ روضہ اقدس سامنے ہے۔ حجرہ نقارخانہ صابری کے ملحق ہے۔ سرکار کی خدمت میں آنے والے زائرین آپ کے سامنے سے گزریں گے۔ وہ حجرہ دے کر چلا گیا۔ حجرہ میں گلونے چٹائیاں اور مختصر سا سامانِ ضرورت رکھ لیا۔ ڈیرہ لگ گیا۔

​بستر فقیر کا ہو تیرے در کے سامنے
میخانہ سلامت ہے تو ہم سرخیِ مے سے
تزئینِ درو بامِ حرم کرتے رہیں گے

​روزہ شروع ہو گیا

​تقسیم لنگر کی گھنٹی بجی۔ حاضرین و زائرین لنگر خانہ کی طرف چل دیئے۔ لنگر خانہ دربارِ عالیہ سے ملحق شمال کی جانب ہے۔ سرکار نے گلو سے فرمایا، جاؤ تم بھی لنگر لے آؤ۔ گلو برتن لئے لنگر خانہ پہنچا۔ اہلِ نظر لنگری نے کہا پنجابی دوست اپنا لنگر لے لو۔ گلو نے کہا ہم دو ساتھی ہیں۔ دو آدمیوں کا لنگر دیں۔ لنگری نے کہا بھئی لنگر صرف ایک آدمی کا ملے گا۔ وہ بھی تمہارا تمہارے ساتھی کا نہیں۔ گلو نے کہا، اگر میرے ساتھی کا لنگر نہیں ملے گا تو میں بھی نہیں لوں گا خالی واپس آ گیا۔ سرکار نے خالی لوٹنے کی وجہ پوچھی تو گلو نے کہا، لنگر صرف میرا ملتا ہے، آپ کا نہیں ملتا۔ اس لئے میں بھی نہیں لوں گا۔ فرمایا جاؤ تم لے لو، تم کھاؤ، میرا جس دن ملے گا کھا لوں گا۔ میں بھوک اور دیگر تکالیف کا مقابلہ کر سکتا ہوں مگر تم نہیں۔ میرا لنگر نہ ملنے کی وجہ سے تم پریشان نہ ہو۔ میں راضی برضا ہوں۔ سرِ تسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے۔
​گلو کو لنگر ملتا رہا۔ مگر سرکار کا لنگر پورے تیس دن تک بند رہا۔ سرکار تیس دن متواتر روزے سے رہے۔ اس روزہ نے ریاضت و عبادات کا لطف دو چند کر دیا۔ یادِ الٰہی کے سہارے زندہ رہے۔ تعجب ہے اتنی مشکل سے پہنچنے والا عاشق جب بمشکل درِ محبوب پر پہنچا تو معشوق نے مہمان نوازی میں کھانا بند اور محنتِ شاقہ شروع کرا دی۔ ادھر وہ مہمان جو بصد مشکل حاضر ہوا تھا جس کے ساتھ سب سلوک روا رکھے جا رہے تھے۔ انتہائی مسرور تھا، خوش تھا اور اپنے لئے باعثِ فخر سمجھ رہا تھا۔ یہاں ایسے سلوک اپنوں سے روا رکھے جاتے ہیں۔

ہر ستم ہر جفا گوارا ہے
بس یہ کہہ دے کہ تو ہمارا ہے

جہاں اتنی مخلوق اس لنگر پر پل رہی تھی۔ سب کو بلا بلا کر دیا جاتا ہے۔ وہاں ایک مہمان سے کیا کمی آتی مگر یہ سلوک اپنائیت کا ثبوت تھا اور سرکار زبانِ حال سے کہہ رہے تھے،

میرا اعتبارِ الفت جو نہ آ سکا ابھی تک
میں سمجھ گیا یقیناً ابھی مجھ میں کچھ کمی ہے

​ہاتف پکارا کہ جو شہباز، شکار پر وار اور پلٹ جھپٹ کے لئے مخصوص ہوتے ہیں انہیں مالک اپنی ہتھیلی پر بٹھا کر بھوک اور جگرا توں کی کٹھن منزل سے گزارتے ہیں۔ عاشق کے لئے درِ یار کی ہر تکلیف خوشی میں ڈھل جاتی ہے۔ ہر خار پھول نظر آتا ہے۔ ​سرکار بوقتِ سحری سادہ پانی اور دو گولوں سے روزہ رکھتے تھے۔ اور مزید دو گولوں اور پانی سے بوقتِ مغرب افطار فرما لیتے تھے۔ وقت نہایت سکون اور شرابِ طہور کی مستی میں سرشار بسر ہو رہا تھا۔

کسی کی یاد کا صدقہ گزر جاتی ہے مستی میں

سیرِ عصر

​درگاہِ صابری کی جامع مسجد کے خطیب نہایت خدا رسیدہ بزرگ تھے۔ وہ میرٹھ کے رہائشی تھے اور درگاہِ صابری کی مسجد میں خطابت و امامت کے فرائض انجام دیتے تھے۔ عالم و فقیہہ ہونے کے علاوہ نہایت خوش خلق اور دانا انسان تھے۔ سرکار بعد از نمازِ کبھی کبھار ان کے پاس مسجد میں بیٹھ جاتے۔ پیار و محبت کی گفتگو ہوتی۔ علمی نکات بیان ہوتے۔ ایک روز اس بزرگ خطیب نے دورانِ گفتگو آپ کو مشورہ دیا کہ آپ ہمہ وقت حجرہ میں بیٹھا نہ رہا کریں بلکہ بوقتِ عصر سیر کیا کریں۔ ان کے مشورہ کے مطابق آپ نے سیرِ عصر کو معمول بنا لیا۔ ایک روز حسبِ معمول مع سائیں گلوسیر کو نکلے۔ دربارِ عالیہ کے قریب سے گزرنے والے ایک گندے نالے کے کنارے چل دیئے۔ کچھ دور نالے کے کنارے چند بچوں کا جھرمٹ دیکھا جو ہنس رہے تھے۔ اور نالے میں کسی پر پیہم ڈھیلے برسا رہے تھے۔ وہاں پہنچے تو کیا دیکھا کہ ایک ننگا دھڑنگا انسان محض لنگوٹی باندھے گندے نالے میں بیٹھا ہے۔ منہ میں پانی کی کلی بھر کر زور سے بچوں کی طرف پھونک دیتا ہے۔ بچے ہنستے اور دوڑتے ہیں۔ پھر ڈھیلے برسانے شروع کر دیتے ہیں۔ وہ آدمی پانی میں غوطہ لگا لیتا ہے۔ جب سرکار قریب پہنچے وہاں رک گئے۔ اچانک اس اجنبی غواطہ زن نے پانی سے سر نکالا اور آپ کی طرف دیکھا یکا یک خوبصورت اور چمکیلی آنکھوں نے مسحور کر دیا۔ آنکھوں میں ایک تعجب خیز منظر دکھائی دیا۔ یوں محسوس ہونے لگا جیسے یہ آنکھیں نہیں بڑے بڑے شیشے ہیں۔ ان شیشوں کے پار ایک خوبصورت اور دلکش جہاں آباد ہے۔ وہ جہاں اتنا دل آویز اور پیارا ہے کہ آنکھیں جھپکنے کا بھی ہوش نہ رہا۔ فرماتے تھے وہ کافی دیر اسی طرح تکتا رہا اور میں اس کی آنکھوں میں آنکھوں سے پرے کسی خوش منظر دنیا میں کھویا رہا۔ آخر اس نے آنکھیں بند کر لیں اور غوطہ لگایا۔ ہم واپس اپنے حجرہ میں آگئے۔ دل و دماغ میں وہ پیاری آنکھیں بس گئی تھیں۔ اب وہ آنکھیں دکھائی نہ دیتی تھیں۔ اضطراب بڑھنے لگا۔ طبیعت پر اداسی چھا گئی۔

نظر آئیں مجھے تقدیر کی گہرائیاں جس میں
نہ پوچھ اے ہم نشیں مجھ سے وہ چشمِ سرمہ سا کیا ہے

​رات ہوگئی۔ ان آنکھوں کا تصور بھلائے نہ بھولتا تھا کہ اچانک بعد از نمازِ عشاء ایک آدمی سفید پائجامہ قمیض اور کپڑے کی رامپوری ٹوپی زیب تن کئے ہمارے حجرہ میں داخل ہوا۔ السلام علیکم کہا۔ سامنے والی چٹائی پر دو زانو بیٹھ گیا۔ آواز اور شکل و صورت کی تو پہچان نہ تھی۔ جب اس نے آنکھیں کھولی تو وہی پُرکشش آنکھیں پہچان لیں۔

بھول سکتا ہے بھلا کون وہ پیاری آنکھیں

​گفتگو شروع کی۔ گفتگو میں حلاوت اور پیار تھا۔ تمام رات ہمارے پاس رہے۔ صبح تک مسائلِ سلوک و تصوف، قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان فرمائے۔ اس قدر محویت رہی کہ رات گزر گئی، مگر ہمیں خبر نہ ہوئی۔ صبح اذان ہوئی تو اُٹھ کر چل دیئے۔ فرمایا اب لوہا ٹھنڈا ہو چکا ہے۔ اب ہم چلتے ہیں۔ تمام رات سونے والے جاگ پڑے اور ہمیں جگانا چاہتے ہیں۔ تمام دن انتظار رہا۔ دوسری شب ٹھیک اسی وقت پھر تشریف لے آئے۔ محفل سوز و سخن گرم رہی انوار کی بارش برستی رہی۔ رموز و نکات کے موتی لٹتے رہے۔ تقریباً ہم نے اکٹھی گزاریں۔ راز ہائے سربستہ کھلتے رہے۔ خدا جانے وہ کون تھا؟ مہمان تھا یا صاحبِ خانہ تھا۔ ​جو کچھ بھی تھا عجب آزاد مرد تھا

کلیر کی گلیوں میں گدا

​ایک روز بوقت عصر سرکار نے گلو سے فرمایا، ’آج سیرِ عصر کے لیے کس سمت جانا ہے؟‘ عرض کی جو سمت آپ پسند فرماتے ہیں اسی طرف چل نکلتے ہیں۔ فرمایا میرا خیال ہے کہ آج ہم کلیر کے کوچوں میں گدا کریں۔ سیر بھی ہوگی، ریاضت بھی اور سخی کے گداؤں میں شمار بھی ہوگا۔ سنا ہے کہ کلیر کا منگتا کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹتا۔ گلو نے ایک مٹی کا لوٹا اٹھایا اور آپ نے ایک چنگیر لے لی۔

بدل کر فقیروں کا ہم بھیس غالب
تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں

​گاؤں میں داخل ہوئے۔ پہلے ہی مکان کے دروازے پر کھڑے ہوگئے۔ دیکھا اندر عورتیں تنور پر روٹیاں لگا رہی تھیں۔ گلو نے صدا لگائی۔ عورتوں نے فقیروں کو دیکھا۔ پکی ہوئی تمام روٹیاں چنگیر میں ڈال دیں اور سارا آٹا لوٹے میں ڈال دیا۔ جس سے دونوں برتن بھر گئے۔ فرمایا بتاؤ اب گلی گلی اور در در جانے کی کیا ضرورت ہے؟ جب کہ ہمارے برتن تو پہلے ہی دروازہ پر بھر گئے۔

پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
دل کو جو عقل دے خدا تیری گلی سے جائے کیوں

​فرمایا گلو اب تو اپنی تنگ دامنی پہ ندامت ہے۔ ہمارے دامن ہی تنگ تھے۔ دینے والے کا خزانہ تو کم نہ تھا۔

​جھولی ہی میری تنگ ہے تیرے یہاں کمی نہیں

​افطاریءِ روزہ و حسنِ ملاقات

​سرکار کو آستانہ صابرؒ پر رہتے ہوئے تیئیس 23 ایام گزر چکے تھے۔ تیس دنوں سے روزہ تھا۔ شب و روز کے جنگ رہتے تھے۔ محنت شاقہ تھی۔ عبادات و ریاضات ہمہ وقت جاری تھیں۔ دیگر تمام ضروریاتِ زندگی کا فقدان تھا۔ تاہم وقت نہایت سکون سے بسر ہو رہا تھا۔ ایسے لگتا جیسے تمام جہان کی نعمتیں اور سعادتیں سمٹ کر سرکار کے حجرہ میں آگئی ہوں۔ جس سکون کی تلاش میں لوگ زندگیاں تلف کر دیتے ہیں، کبھی سیم و زر، کبھی شہرت، کبھی تاج و تخت کا سہارا لیتے ہیں مگر سکون کی دولت کسی طرح ہاتھ نہیں آتی۔ بیش بہا دولتِ سکون قلبِ صابر کے آستانہ مبارک پر عطا ہو رہی تھی۔ اپنے سے بے خبر غمِ دو جہاں سے بے نیاز یادِ یار میں گم وقت سکون سے گزر رہا تھا۔

جسے جنت سمجھتے تھے وہ کلیر کی گلی نکلی
مرے صابر کی چوکھٹ سجدہ گاہِ ہر ولی نکلی

​آج دربارِ عالیہ پر چوبیسواں دن تھا۔ سرکار صبح سویرے حجرہ میں بیٹھے دو پوسٹ کارڈ لکھ رہے تھے۔ ایک کلس شریف میں والد کے نام اور دوسرا موضوع ساہنا قبلہ مائی صاحبہ کے نام تحریر تھا۔ جن کا نفسِ مضمون ایک ہی تھا۔ کہ میں آستانہ صابر پر پہنچ چکا ہوں۔ سرکار کے قدموں میں نہایت سکون سے رہ رہا ہوں۔ حضور کی نوازشات جاری ہیں۔ جب اجازت ملی آجاؤں گا۔ ابھی دونوں خطوط پر پتے (Addresses) لکھنا باقی تھے۔ سائیں گلو پاس ہی بیٹھا حقہ پی رہا تھا۔ اچانک گلو نے دروازہ کی طرف تعجب خیز نظروں سے دیکھا اور اٹھ کھڑا ہوا۔ سرکار نے بھی دیکھا تو دروازہ پر ایک نورانی پرکشش سفید ریش خوبصورت چہرہ والی شخصیت کو کھڑے پایا۔ جو سفید لباس میں ملبوس سفید جوتا پہنے سر پر سوتی عمامہ سجائے ہاتھ میں عصا تھامے کھڑے تھے۔ سفید جوتے پر رائی بھر خاک نہ پڑی تھی۔ جیسے یہ ایک قدم بھی چل کر نہ آئے ہوں۔ کہیں آسمان سے نیچے اتر پڑے ہوں۔ سرکار با ادب اٹھے۔ مہمان کو اندر لائے۔ آنے والے نورانی بزرگ سامنے والی چٹائی پر خاموش بیٹھ گئے۔ خاموشی طاری تھی۔ مہمان کا جلال و جمال کا امتزاج ایسا اثر انداز ہوا کہ بولنے کی سکت نہ رہی۔ ع

وہ رعبِ حسن تھا غالب بوقتِ دیدِ جمال
کہ حالِ اپنا اشاروں سے بھی سنا نہ سکے

​سرکار نے دل میں سوچا یہ خواب کا عالم ہے۔ بھلا ایسی لامثال شخصیت جس کے نورِ جبیں سے دل و جان منور ہو رہے ہیں، جاگتے میں کیسے نظر آتی ہے۔ میں کوئی بات کر لوں ورنہ بیدار ہونے پر افسوس ہوگا کہ میں نے کوئی بات نہ کی۔ دل میں کئی ارادے بنتے پھر دل ہی دل میں ٹوٹ جاتے۔ کہیں ایسا کہنا خلافِ ادب نہ ہو۔ آخر ہمت کر کے ایک نامکمل سوال عرض کیا کہ حضور آپ کی عمر کتنی ہے؟ سوال سن کر چہرہ پر خوبصورت سا تبسم اور دانتوں کی ستاروں جیسی چمک نمودار ہوئی۔ میٹھے انداز میں فرمایا اپنی عمر کا تو کیا کہنا۔ میری والدہ کی عمر تین صد ستر (370) برس ہے۔ ابھی پینا خود ہی کرتی ہے۔ جواب سن کر ذہن الجھا کہ یہ کیا معاملہ ہے کہ والدہ کی عمر تین صد ستر (370) برس ہے اور پینا خود ہی کرتی ہے۔ تاہم فوراً ذہن میں جواب آگیا کہ ہاں ہر مومن کی ماں شریعت ہے۔ سرکار نے عرض کی حضور میری بھی ماں تو وہی ہے۔ آپ مسکرائے، پیار سے تھپکی دی، 'میں ابھی آتا ہوں' کہہ کر درگاہ میں چلے گئے۔ تھوڑی دیر بعد تین موٹے موٹے مکھانے ہاتھ پر رکھ کر درگاہ سے واپس آگئے۔ اپنے ہاتھ سے ایک مکھانہ سرکار کے منہ میں ڈالا۔ فرمایا شاہ صاحب کھا جاؤ۔ دوسرا لٹو کو دیا اور تیسرا خود کھا لیا۔ پھر سرکار کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا، آپ ابھی چلے جائیں۔ آپ کو اجازت ہو چکی ہے۔ آپ کا روزہ افطار ہو گیا ہے۔ سرکار نے عرض کی، میرا چالیس دن رہنے کا ارادہ تھا۔ فرمایا یہ گنتی کی جگہ نہیں۔ اگر ایک دن مزید رہو گے تو دیوانے ہو جاؤ گے۔ عرض کی اگر دیوانہ ہو گیا تو اچھا ہے۔ دنیا کے بکھیڑوں سے جان چھوٹ جائے گی۔ فرمایا نہیں، دیوانہ نامراد ہوتا ہے۔ جاؤ دنیا تمہارے ہاتھ سے فیض حاصل کرے گی۔ خواجہ خواجگان کا چشمہ فیض جاری ہوگا۔ نامراد مراد پائیں گے۔ دولتِ ایمان بڑھے گی۔ لو اب ہم جاتے ہیں۔ کہہ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ جب چلنے لگے تو سرکار سے وہ پوسٹ کارڈ لے لئے جن پر ابھی ایڈریس نہیں لکھے گئے تھے اور وہ کارڈ چغہ کی جیب میں ڈال لئے۔ خطوط اسی روز اپنے اپنے مکتوب الیہ کے پاس پہنچ گئے تھے۔ مہمان جب رخصت ہونے لگے تو لٹو اختر اما ہمراہ ہو لیا۔ آگے جا کر گلو کو فرمایا یہ تمہارے پیر و مرشد ہیں ان کی خوب خدمت کیا کرو۔ یہ خزانہ ہے، لوٹ لو۔ لٹو رخصت کر کے واپس آیا۔ کے آنے تک سرکار کی تیاری ہو چکی تھی۔ گلو فرمایا، گلو واپسی کے لئے رختِ سفر باندھ لو۔

​کلیر سے واپسی

​سائیں گلو کی کلیر میں رہتے رہتے درگاہ پاک کے خدام اور درویشوں سے کافی واقفیت ہو چکی تھی۔ اس نے سب دوستوں سے پروگرام بنا رکھا تھا کہ جب ہم واپس جائیں گے میں گولا چلاؤں گا۔ سب صابری فقیر اکٹھے ہو جائیں۔ نقار خانے کے آگے اور روضہ اقدس کے سامنے رقص ہوگا۔ بھیڑ بجے گی۔ صابر کے صدقے بٹیں گے۔ سرکار کو مل کر سب فقیر رخصت کریں گے۔ گُلو نے آج حسبِ وعدہ گولا چلایا۔ تمام صابری غلام اکٹھے ہو گئے۔ گُلو اور دیگر صابری مستوں نے مل کر رقص کیا۔ سرکار نے پہنے ہوئے کپڑوں تک سب کچھ خیرات کر دیا۔ صرف ایک کھیس تھا جس سے تن ڈھانپ لیا۔ آنکھیں اشکبار تھیں۔ محبوب کا دیس چھوڑنا مشکل نظر آرہا تھا۔ مگر بحکم صابرؔ آہستہ آہستہ واپسی کے لئے روانہ ہو لیے۔ نہر تک پیچھے پاؤں با ادب چلتے آئے۔ لوگ مل مل کر رخصت ہوتے رہے گرمی ہو چکی تھی۔ جسم کمزور و لاغر تھا۔ انتہائی نقاہت کی وجہ سے چند قدم چلتے پھر ستا لیتے۔ اچانک فضا میں خنکی آ گئی۔ بادل بنا، بوندیں شروع ہو گئیں۔ آپ اسی بوندا باندی میں رُڑکی پہنچ گئے۔

​عبدالجلیل کی ملاقات

​ریلوے اسٹیشن رُڑکی سامنے نظر آ رہا تھا۔ سرکار آہستہ آہستہ معہ گُلو چل رہے تھے۔ ایک شخص سڑک پر کھڑا نظر آیا۔ جو ہر آنے والے مسافر کو بغور دیکھ رہا تھا۔ سرکار پر نظر پڑی، جھک کر با ادب ملا۔ بڑی محبت سے اپنی سامنے والی دُکان پر تشریف لے چلنے کی عرض کی۔ دُکان پر بٹھا کر چائے سے تواضع کی۔ بعد میں ہاتھ جوڑ کر اپنا مدعا بیان کیا کہ حضور مجھے آج رات خواب میں ایک نوری بزرگ کی زیارت ہوئی۔ خواب میں آنے والے بزرگ کا حلیہ اور لباس وہی بتایا جس حلیہ کے بزرگ نے سرکار کو کلیر سے رخصت کیا تھا۔ انہوں نے فرمایا ہے صبح یہاں سے ایک پابرہنہ مسافر گزرے گا۔ تم اس کی خدمت کرنا۔ اس کی بیعت ہو جانا۔ تمہارا فیض ان کے پاس ہے۔ میں حسبِ حکم راستہ میں کھڑا تلاش کر رہا تھا۔ مجھے آپ وہی مسافر نظر آئے ہیں۔ لہٰذا میری بیعت کی اپیل قبول فرمائیں۔ سرکار نے فرمایا تیری خواب درست ہے کیونکہ ہمیں کلیر سے رخصت کرنے والے وہی بزرگ ہیں یہ آدمی عبدالجلیل نامی رُڑکی کا رہائشی تھا۔ ریلوے روڈ رُڑکی پر ہوٹل بنا رکھا تھا۔ یو، پی ہندوستان میں یہ ہمارا پہلا پیر بھائی تھا۔ سرکار کا لاہور تک گاڑی کا ٹکٹ خرید کر گاڑی پر بٹھا کر آیا۔ ​گاڑی مسافروں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ ہندو لوگ ہردوار یاترا کے بعد واپس آ رہے تھے۔ ڈبہ میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ سائیں گُلو نے سیٹ پر لیٹے ہوئے ایک مسافر کی منت کی کہ ایک بیمار کے لئے بیٹھنے کی جگہ دے دو مگر وہ لوگ نہ مانے۔ سرکار اور گُلو ایک طرف کھڑے ہو گئے۔ گاڑی چل پڑی۔ جب اپنی پوری رفتار سے فراٹے بھرنے لگی، ڈبہ میں ہچکولے لگنے شروع ہو گئے۔ اتفاقاً ایک اوپر والی سیٹ پر سویا ہوا بھاری بھرکم مسافر نچلی سیٹ پر سو خواب عورت پر آ گرا۔ عورت چلائی، غل مچا، سارے ڈبہ میں بھگدڑ مچ گئی۔ آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے یہ مسافر کوئی سادہ صفت معلوم ہوتے ہیں۔ ہم نے ان سے ناروا سلوک کر کے بے ادبی کی ہے۔ جس کی سزا ہمیں بھگوان نے دی ہے۔ اس طرح انہوں نے آپ کو بڑی منت سماجت سے راضی کیا۔ جگہ دی اور خدمت میں لگ گئے۔ یونہی لاہور تک واپسی کا سفر آسانی سے طے ہو گیا۔ لاہور آ کر اپنے غلام خاص خواجہ خان کے گھر گئے۔ اس نے آپ کا لباس تیار کرایا۔ دوسرے روز لاہور سے ملک وال آگئے۔ اس طرح واپسی ہوئی۔ جو کچھ صابر حضور نے دیا۔ دینے والا جانے یا لینے والا جانے۔
​اس سفر کے بعد حضور کے دست حق پرست سے فیوض و اکرام کے چشمے جاری ہو گئے۔ لاکھوں مایوس با مراد ہوئے اور لاکھوں چوروں ڈاکوؤں کو دولت ایمان ملی۔ اس کے بعد کلیر اپنا گھر نظر آنے لگا۔ ہماری سنگت کے کافی لوگ وہاں حاضری کے لئے جاتے۔ سرکار نے وہاں اپنے رہائشی مکانات تعمیر کرا دیئے۔ وہیں سال بھر ڈیرہ رہتا۔

​یوں مسکرائے جان سی کلیوں میں پڑ گئی
یوں لب کشا ہوئے کہ گلستان بنا دیا

متاعِ حیات

​انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ
میرے گھر کے راستہ میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

​محبت کا راستہ بڑی ہولناک اور کٹھن وادیوں سے گزرتا ہے۔ جہاں قدم قدم پر خاردار جھاڑیاں، پر پیچ راہیں، نوکیلے پتھر، پرہول چیخیں، خونخوار درندے منہ کھولے کھڑے ہیں۔ جو راہی کو ہڑپ کرنے کے درپے نظر آتے ہیں مگر راہِ سفر کا مسافر جب عزمِ صمیم لیکر قدم اٹھاتا ہے تو اسے ہر دشواری آسانی میں ڈھلتی نظر آتی ہے۔ بالو اور خشک ریگ سیاہ پھولوں کی سیج نظر آتی ہے۔ کانٹے خوشنما پھول بن جاتے ہیں۔ محبوب کی محبت کا مقناطیسی اثر عاشق کے ارادوں کو فولاد سے زیادہ مضبوط بنا دیتا ہے۔ دنیا و مافیہا سے بے پرواہ کر کے صرف ایک دھن میں مگن کر دیتا ہے اور عاشق کشاں کشاں اپنی منزل کی طرف کھنچا چلا جاتا ہے۔ علاوہ پاؤں میں نوکیلے پتھر چبھ گئے تھے جو آئندہ زندگی میں چلنے میں بڑی تکلیف دیتے تھے۔ اکثر اوقات پاؤں میں سخت چبھن محسوس ہوتی تھی۔

​اہل خرد صعوبت منزل سے ڈر گئے
اہل جنوں جنوں کے سہارے چلے گئے

​کئی بار قدم دباتے ہوئے عرض کی حضور یہ نوکیلے پتھر گوشت کے اوپر والے حصہ میں ہیں۔ اگر اجازت ہو تو جراح معمولی سا نشتر لگا کر نکال دے تاکہ ہر روز کی تکلیف جاتی رہے، مگر ہر بار یہی جواب ملا کہ مجھے پتہ ہے یہ پتھر نکالنے میں کوئی تکلیف نہ ہو گی۔ یہ بہت آسان سا عمل جراحی ہے۔ مگر میں انہیں نکالنا نہیں چاہتا کیونکہ یہ میرے محبوب کے راستہ کی مقدس نشانیاں ہیں۔ میرے مشکل سفروں کے ساتھی ہیں۔ میں انہیں اپنے ساتھ قبر میں لے جانا چاہتا ہوں۔ آپ لوگ میری اس تکلیف کو محسوس نہ کیا کریں۔

​مجھے سب قبول فلک مگر غم دوست مجھ سے طلب نہ کر
اسے کیسے دل سے جدا کروں میری عمر بھر کی تلاش ہے

وصال

​آج مورخہ ۲۴ نومبر ۱۹۷۳ء، ۲۹ شوال المکرم ۱۳۸۳ھ، ۱۱ ماگھ ۲۰۱۰ بکرمی بروز اتوار صبح صادق کا وقت تھا عشاق پر کوہِ غم ٹوٹ پڑا۔ سرگودھا سے کلس تک سفر خدا جانے کس حالت میں گزرا جنہیں الفاظ میں سمونا مشکل ہے۔ سرگودھا سے شام تک واپس کلس دربار آگئے۔ رات دربار پر گزاری۔ احباب رشتہ داروں اور عاشقوں کا جمِ غفیر اکٹھا ہو گیا تھا۔ اخبارات اور ریڈیو کے ذریعہ سرکارؒ کے وصال کی اطلاع پورے ملک میں پھیل گئی تھی۔ لوگ دیوانہ وار آرہے تھے۔

​نمازِ جنازہ

​اگلی صبح تقریباً نو بجے نمازِ جنازہ دربارِ عالی سے جنوب کی طرف کھلے میدان میں ادا کی گئی۔ نماز میں لوگوں کی تعداد کئی لاکھ کے قریب ہو چکی تھی۔ نمازِ جنازہ سرکارؒ کے خادم حافظ قاری صوفی امیر علی صابری نے پڑھائی۔ حافظ موصوف سرکارؒ کے مرید عاشق اور وفادار غلام ہیں۔ دربارِ عالیہ کی عزت کے خیر خواہ اور جاں نثار خادم ہیں۔ عبادت گزار اور نیک نفس انسان ہیں۔ ادیب، شاعر اور عاشقِ طبع ہیں۔ نہایت سمجھدار اور باادب ہیں۔ میرے وفادار ساتھیوں میں شامل ہیں۔ تقریباً ۴ بجے بعد دوپہر تک لوگ زیارت کرتے رہے۔ جوں جوں عاشق آتے، درود و سلام پڑھتے آخری زیارت سے مستفیض ہوتے رہے۔ تقریباً ۴ بجے شام کو سرکار کا دفینہ ہوا۔

​ہائے وہ کیا صورتیں تھیں جو کہ پنہاں ہو گئیں

​اگلی صبح ۲۶۔۱۱۔۱۹۷۳ء کو مزار مکمل ہوا اور مزار پر ایک حفاظتی مکان تعمیر ہو گیا۔ ۲۶ نومبر ۱۹۷۳ء کو ہی رسمِ قل ہوئی۔ اس موقع پر چہلم اور دستار بندی کی تاریخ مقرر ہوئی۔

​خدا رحمت کند ایں عاشقاں پاک طینت را
​اُڑتی پھرتی تھیں ہزاروں بلبلیں گلزار میں
جی میں کیا آیا کہ پابندِ نشین ہو گئیں

حضرت پیر گلزار حسین

حضرت پیر گلزار حسین شاہ صابری رحمۃ اللہ علیہ

1934 - 1991

شخصیت

آپ ایک فیض بخش دریا تھے۔ آپ کی حسین و جمیل اور پاکباز و مبارک شخصیت کے جملہ پہلو یعنی عبادت، ریاضت، طہارت، نفاست، دیانت، امانت، روحانیت، سخاوت، دانائی، تدبر، یادِ الٰہی، عشقِ الٰہی، عشقِ مصطفیٰ ﷺ، مخلوق خدا سے محبت و پیار، جود و سخا، حقوق اللہ اور حقوق العباد، سنت نبوی ﷺ کے مطابق سب کے سب مثالی تھے۔

عبادت اور ریاضت

اپنے پیر و مرشد کی محبت میں ہمہ وقت سرشار رہنے والے حضرت پیر گلزار حسین شاہ صابری رحمۃ اللہ علیہ کو اپنی آن بان اور لا تعداد مصروفیات کے باوجود رات کو بھی بہت کم آرام کرتے دیکھا گیا۔ آپ اکثر راتیں یادِ الٰہی اور عبادت میں صرف کرتے مگر کبھی تھکن کا اظہار آپ کے کسی قول و فعل سے ظاہر نہیں ہوا۔

عشقِ رسول ﷺ

چونکہ آپ کو سرکار مدینہ جناب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے بے پناہ عشق تھا اس لیے جب بھی سرکار رسالت مآب ﷺ کا ذکر مبارک دوران گفتگو یا جمعہ مبارک کے وعظ شریف میں ہوتا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے۔ دل بے قرار ہو جاتا۔ گویا وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی حتیٰ کہ سننے والے بھی ان کیفیات میں سے حصہ لیتے۔

دینی خدمات

مسجد پاک کی تزئین و آرائش کے ساتھ ساتھ نماز جمعہ کا اہتمام اور اس میں مدرسہ گلزار چشت کا اجرا آپ کی دن رات کی تبلیغی مساعی، خدمتِ خلق اور دینِ حق کی خدمت کے لیے محنتوں کا واضح ثبوت ہے۔

تعمیراتی خدمات

قدیم مجلس خانہ (بیٹھک) اور حضرت قبلہ پیر سیدن شاہ رحمۃ اللہ علیہ سرکار کا عبادت خانہ (حجرہ شریف) دوبارہ تعمیر کیے گئے۔ حضرت مائی صاحبہ (جناب پیر گلزار حسین شاہ کی والدہ ماجدہ) کا روضہ شریف اور اس کے متصل قرآن محل تعمیر کرایا گیا۔

ایک وسیع و عریض مسجد پاک تعمیر کرائی جس کے ساتھ متعدد طہارت خانوں اور غسل خانوں کا انتظام کیا گیا۔ نیز آب رسانی کے لیے ٹیوب ویل کا بندوبست کیا گیا۔ کلس شریف جیسی پسماندہ بستی کو دربار عالیہ کے صدقے بجلی نصیب ہوئی۔ یہ کام بذات خود عظیم منصوبہ تھا۔

دربار عالیہ پر ڈاکخانہ قائم کرایا گیا جس سے متعلقہ علاقہ مستفید ہو رہا ہے۔ اسی طرح ٹیلیفون کی سہولت مہیا کی گئی جو بفضلہ تعالیٰ سارے علاقے کی خدمت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آرام گاہیں، چکی وغیرہ سب تعمیری اور اہم کام ہیں۔

علاقائی ترقی

علاقے کے لوگ بخوبی اس بات سے آگاہ ہیں، جس دور افتادہ بستی کے لیے کوئی راستہ نہیں تھا، وہاں اس مرد قلندر کی محنت شاقہ کے طفیل زندگی کی تمام بنیادی سہولتیں میسر ہیں۔ کوئی بھی پہلو آپ نے تشنہ تکمیل نہیں چھوڑا۔

اگر ایک طرف نذیر آباد ریلوے اسٹیشن اور چک سیدا اسٹیشن منظور کروا کر پکی سڑک دربار عالیہ تک تعمیر کرائی گئی تو دوسری طرف ضلع جہلم کے علاقے سے آنے والے مسافروں کے لیے چک نظام ریلوے اسٹیشن بنوا دیا۔ الغرض اللہ کریم کے اس برگزیدہ بندے نے مخلوق خدا کی سہولت اور آرام کے لیے اس بستی کو مثالی گاؤں بنا دیا۔

دیگر مقامات پر خدمات

علاوہ ازیں آپ نے محسن سلسلہ صابریہ حضرت جناب سید مردان علی شاہ صابری رحمۃ اللہ علیہ کے دربار (واقع مگھو پنڈی نزد پھالیہ) پر بھی روضہ اطہر کی مرمت کے ساتھ ساتھ وسیع و عریض مہمان خانے، مجلس خانے اور لنگر خانے کے علاوہ خوبصورت مسجد تعمیر کرائی۔

پاک پتن شریف ہر سال جمع ارادت مندوں کے حاضر ہوا کرتے تھے۔ اس لیے وہیں جگہ خرید کر بہت سے مکانات اور مجلس خانہ، لنگر خانہ تعمیر کرایا۔ نیز یہاں بھی غسل و وضو کا خاطر خواہ انتظام فرمایا۔

اسی طرح جب حضرت مخدوم دو جہاں حضرت علاؤ الدین علی احمد صابر رحمۃ اللہ علیہ سرکار کلیری ختم الارواح سلطان الاولیاء کا جب حجرہ مبارک از سرِ نو تعمیر ہوا تو آپ نے جس محبت، لگن اور عشق سے وہاں پر کام کیا وہ واقعی آپ کا حصہ ہے۔ اس کام کے دوران آپ پر اس قدر وجدانی کیفیت اور مستی طاری تھی جیسے مخدوم زمین سرکار کلیر آپ کو پیار سے فرما رہے ہیں: "آفرین میرے لال گلزار حسین، تو ہی میرا سچا امین اور وارث ہے۔"

موضع مغل شریف تھانہ جاتلی (تحصیل گوجر خان) میں حضرت سائیں رحمت دین صابری رحمۃ اللہ علیہ کا روضہ شریف آپ کی زیرِ نگرانی تعمیر ہوا۔ نیز ٹبہ شریف (موضع ساہنا) حضرت مائی صاحبہ کے روضہ اقدس کی تزئین و آرائش اور مہمان خانوں کی مرمت اور دیکھ بھال کا سب کام بطریق احسن سرانجام دیا۔

حتیٰ کہ کلس شریف کے راستے میں موضع بولا کے قریب صابری مسجد اور آرام گاہ کی مرمت، صفائی اور سجاوٹ کو بھی ہمیشہ شامل معمولات رکھا۔ الغرض اس اٹھارہ سال کے عرصے میں ان گنت کام ہیں جو آپ نے کیے، سب کے سب بطریق احسن پایہ تکمیل تک پہنچائے۔

عشق لامحدود جب تک راہنما ہوتا نہیں
زندگی سے زندگی کا حق ادا ہوتا نہیں
(جگر)

حج اور عمرہ

آپ نے عشقِ الٰہی میں بہت سے سفر کیے۔ ۱۹۸۰ء میں دوسری دفعہ اپنے ارادت مندوں کے ہمراہ پیران کلیر حاضر ہوئے۔ وہاں سے اجمیر شریف بھی حاضری دی۔ اس کے بعد تقریباً ہر سال یہ سفر کرتے رہے۔

عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی بدولت آپ نے ۱۹۸۳ء میں حجازِ مقدس کا سفر اختیار کیا۔ اس سال حج، حج اکبری تھا۔ مدینہ منورہ شریف میں جناب فخر کونین، باعث ارض و سما جناب محبوب خدا کی بارگاہ اقدس میں نہایت پیارے حاضری دی۔

آپ نے دوبارہ ۱۹۸۶ء میں عمرہ ادا کرنے کی غرض سے یہ سفر کیا اور جناب حضور رسول مقبول، رحمۃ العالمین، خاتم المرسلین ﷺ کے دربار اقدس میں حاضری دی۔

تصانیف

آپ کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں جن میں صدائے حق، شاہی گدائی، گلزار طیبہ، ذکر بلال، گلزارِ چشت اور رموزِ دلبراں شامل ہیں۔ آپ کی تصانیف بہت ہی عمدہ اور ایمان افروز ہیں جن میں بہت قیمتی رموز و اسرار پیش کیے گئے ہیں۔

آپ کی آخری تصنیف "سیرت سیدن المعروف شاہ کارِ صابر" آپ کے ہاتھ میں ہے جو بفضلہ تعالیٰ لاکھوں انسانوں کی ہدایت اور روحانی مسرت و غذا کا سامان ہے۔

نگہ بلند، سخن دلنواز، جاں پرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے

عرس مبارک اور سالانہ تقریبات

آپ ہر سال مگھو پنڈی حضرت سید مردان علی رحمۃ اللہ علیہ سرکار کے عرس پر بصد شوق حاضر ہوتے بلکہ عرس کی تمام تقریبات اور دیگر انتظامات خوب لگن اور محنت سے کرتے تھے۔ زائرین کو نہایت مؤثر انداز میں پند و نصائح سے نوازتے۔

اسی طرح ٹبہ شریف (موضع ساہنا) حضرت مائی صاحبہ کے سالانہ ختم پر تشریف لے جاتے اور تمام معمولات بطریق احسن پورے فرماتے۔ علاوہ ازیں حضرت سائیں رحمت دین صابری رحمۃ اللہ علیہ (موضع مغل تحصیل گوجر خان) کے ہاں تشریف لے جاتے اور عرس مبارک کی صدارت فرماتے۔

حضرت جمال الاولیاء، قبلہ سیدن شاہ رحمۃ اللہ علیہ صابری کا عرس شریف میں سالانہ عرس مبارک جو کہ ہر سال ۱۰ اکتوبر کو ہوتا ہے، آپ ہی کے زیرِ صدارت ہوتا رہا۔ اس پر آپ خصوصی توجہ فرماتے۔

علالت اور وصال

۳۰ جون ۱۹۹۱ء کو آپ مگھو پنڈی میں حضرت جناب سید مردان علی شاہ صابری رحمۃ اللہ علیہ کے عرس مبارک کے موقع پر ختم شریف کی محفل کو خطاب فرمانے کے بعد علیل ہو گئے۔ آپ کو فوراً سرگودھا پہنچایا گیا۔ جہاں سے چند دن بعد لاہور کارڈیالوجی انسٹیٹیوٹ میں داخل کرایا گیا۔ وہاں تقریباً تین ماہ علاج جاری رہا۔

کچھ صحت بحال ہوئی تو واپس کلس شریف تشریف لائے اور سالانہ عرس مبارک آپ کی صدارت میں منایا گیا۔ عرس شریف کی آخری محفل میں جب آپ کے وفادار ساتھی، اعزا، مرید اور ارادت مند ملاقات کر کے روانہ ہو رہے تھے تو آپ نے اپنی قلبی کیفیات کا اظہار اس شعر سے فرمایا:

گلے مل مل کے سارے دوست مجھ سے بچھڑے جاتے ہیں
مری آنکھوں میں یا رب روشنی کم ہوتی جاتی ہے

چنانچہ عرس شریف کے فوراً بعد طبیعت زیادہ علیل ہو گئی اور کارڈیالوجی ہسپتال روانہ ہو گئے۔ ۲۶ نومبر کو آپ نے اپنے برادر خورد جناب صاحبزادہ آفتاب احمد صابری اور فرزند جناب شمیم صابر صابری کو خصوصاً پاس بلا کر اپنے متعلقین اور مریدین کے نام پیغام دیا۔

۲۸ نومبر ۱۹۹۱ء کی شام کو آپ نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

حیف در چشم زدن صحبت یار آخر شد
روئے گل سیر ندیدیم و بہار آخر شد

نمازِ جنازہ اور مزار

نماز جنازہ کی امامت کی سعادت جناب حضرت پیر حاجی عاشق حسین صاحب کے حصے میں آئی جو کہ دربار ثانی بھنگام شریف نزد چک رائب (تحصیل ملکوال ضلع منڈی بہاؤالدین) کے سجادہ نشین ہیں۔

آپ کا مزار مبارک جناب حضرت جمال اصفیاء قبلہ پیر سیدن شاہ صابری رحمۃ اللہ علیہ کے روضہ انور میں سرہانہ عالی جناب حضرت سیدن شاہ صابری رحمۃ اللہ علیہ کے دائیں جانب تیار کیا گیا ہے۔

حضرت پیر شمیم صابر

حضرت پیر شمیم صابر صابری مدظلہ العالی

سجادہ نشین ثانی، دربار عالیہ کلس شریف

مارچ 1953ء

ولادت اور ابتدائی زندگی

حضرت پیر گلزار حسین شاہ صابری رحمۃ اللہ علیہ کی شادی مارچ 1952ء میں میاں مبارک شاہ ہاشمی قریشی (ساکن چک نمبر 497 تحصیل شورکوٹ ضلع جھنگ) کے ہاں ہوئی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک سال بعد مارچ 1953ء میں ایک صابر و شاکر، حسین و جمیل بچہ عطا فرمایا۔

ننھے معصوم شہزادے کی پیدائش کے چند ساعت بعد ان کی والدہ محترمہ مالکِ حقیقی کو پیاری ہو گئیں۔ جس ننھے معصوم نے پیدا ہوتے ہی پیاری ماں کی موت کا صدمہ بصد صبر و شکر برداشت کیا، اس کے لیے حضرت پیر سیدن شاہ صابری رحمۃ اللہ علیہ نے "شمیم صابر" جیسا خوبصورت نام پسند فرمایا، یعنی صابر پاک کی خوشبو۔

شخصیت اور اوصاف

خوفِ خدا، محبتِ رسول ﷺ، دیانت، سخاوت، توکل، تدبر، دانائی، سخن فہمی، صبر و رضا، عجز و انکساری اور تحمل و بردباری جیسی صفاتِ حسنہ آپ کو ورثے میں ملی ہیں۔

عشقِ رسول ﷺ

اللہ تبارک و تعالیٰ نے جناب پیر شمیم صابر صابری کو حبِ مصطفیٰ، عشقِ رسول ﷺ کی نعمتِ عظمیٰ سے خوب نوازا ہے۔ سفر و حضر میں ہر وقت ذکرِ نبی ﷺ جاری و ساری ہے۔ آپ سادات سے ازحد پیار کرتے ہیں اور ان کے احترام کو اپنا سرمایہ حیات سمجھتے ہیں۔

راہِ وفا میں جذبہ کامل ہو جس کے ساتھ
خود اُس کو ڈھونڈ لیتی ہے منزل کبھی کبھی

بیعت اور روحانی تربیت

جناب پیر سیدن شاہ صابری رحمۃ اللہ علیہ نے 1969ء میں اپنے اس پیارے جگر گوشے کو اپنے دستِ حق پرست پر بیعت فرمایا اور تمام آبائی اوراد و وظائف عطا فرمائے۔ اسی طرح 1989ء میں جناب حضرت پیر گلزار حسین شاہ صابری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی دوبارہ اپنے دستِ حق پرست پر بیعت فرمایا۔

روحانی اور دینی خدمات

مسجد پاک میں نمازِ جمعہ کا اہتمام جاری ہے۔ نمازِ جمعہ سے قبل نعت خوان سرکارِ دو عالم ﷺ کی نعتیں پیش کرتے ہیں۔

تعلیم و تربیت

در حقیقت 1953ء سے 1973ء تک آپ کی تربیت دو کامل ولیوں یعنی حضرت پیر سیدن شاہ صابری رحمۃ اللہ علیہ اور جناب حضرت پیر گلزار حسین شاہ صابری رحمۃ اللہ علیہ کے زیرِ سایہ مکمل علمی، روحانی اور اخلاقی مکتبِ کامل میں ہوئی۔

ملکوال ہائی سکول میں زیرِ تعلیم رہے، نیز ساتھ ساتھ قرآنِ کریم کی دینی تعلیم بھی مسلسل جاری رہی۔ بعد میں زمینداری کالج گجرات سے ایف اے کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد خصوصی اساتذہ کرام سے عربی درس بھی حاصل کیے۔

پیش گوئیاں اور خصوصی محبت

ننھا شہزادہ اپنی جدہ محترمہ حضرت قبلہ مائی صاحبہ کی محبت، شفقت اور رضاعت پر پرورش پاتے رہے۔ ایک واقعہ میں جب ننھا شہزادہ شدید بیمار ہو گیا تو حضرت پیر سیدن شاہ صابری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:

"یہ ابھی مرے گا نہیں، یہ میری تصویر ہے، باتوقیر ہے، روشن ضمیر ہے، میرا امین اور سجادہ نشین ہے۔"

دستار بندی

28 نومبر 1991ء کو حضرت پیر گلزار حسین شاہ صابری رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد 2 جنوری 1992ء کو رسمِ چہلم کے موقع پر حضرت سید میاں منصور اعجاز قدوسی (سجادہ نشین کلیر شریف) نے کلیر شریف سے لائی ہوئی دستارِ مبارک، بکمالِ شفقت اپنے دستِ مبارک سے حضرت پیر شمیم صابر صابری کے سر مبارک پر سجائی۔

تاریخی اعلان

"آج سے کلیر اور کلس ایک ہو گئے ہیں۔ جو کلیر شریف حاضر نہ ہو سکے، وہ کلس شریف میں حاضری دے، اس کی حاضری قبول ہو گی۔"

— حضرت سید میاں منصور اعجاز قدوسی، سجادہ نشین کلیر شریف

خدمتِ خلق

دربارِ عالیہ کے مریدین، ارادت مندوں اور متوسلین پر شفقت اور محبت نچھاور ہو رہی ہے۔ بیماروں کا علاج، تعویذ، دم اور لطف و عنایات جاری ہیں۔ دکھیوں، مجبوروں اور غمزدوں کی بڑے پیار اور محبت سے غمگساری اور دستگیری کی جا رہی ہے۔

لنگر اور مہمان نوازی

مہمانوں کی تواضع، کھانے پینے کا نظام نہایت وسیع اور جامع ہے۔ شب و روز کسی بھی وقت آنے والے مہمانوں کی تواضع قابلِ تعریف ہے۔ برقی واٹر کولر، پنکھے، اور سائبان کا بہترین انتظام۔

تعمیراتی خدمات

دربار کلس شریف

  • درگاہِ شریف کے صحن میں سنگِ مرمر کا خوبصورت مضبوط فرش
  • روضہ اطہر کے دروازوں اور غلام گردش میں نفیس شیشے سے مینا کاری
  • شجرہ طریقت کی خوبصورت نقش نگاری
  • نہایت قیمتی اور کاریگری کا شاہکار فانوس
  • حضرت پیر یاسین رحمۃ اللہ علیہ (بانی کلس) کا روضہ مبارک
  • مسجد شریف میں توسیع، طہارت خانے اور غسل خانے
  • وسیع و عریض محفل خانہ (66x36 فٹ، 20 فٹ بلند) قدیم طرزِ تعمیر پر
  • خوبصورت اور عالیشان گیٹ
  • جدید برقی انتظامات اور جنریٹر
  • خوبصورت باغیچے اور پھولوں کے پودے

موجودہ خدمات

آپ کی قیادت میں دربار شریف آج بھی خدمتِ خلق اور روحانی تعلیمات کا ایک فعال مرکز ہے۔ سلسلہ صابریہ کو فروغ مل رہا ہے اور حضور صابر پاک کا فیض بٹ رہا ہے۔ دینِ اسلام کی آبیاری و ترویج جاری و ساری ہے۔

تصانیف کی اشاعت

جناب پیر گلزار حسین رحمۃ اللہ علیہ کی تحریر کردہ کتابیں گلزارِ طیبہ، وسدیاں اکھیں، شاہی گدائی اور رموزِ دلبراں دوبارہ خوبصورت کاغذ پر چھپوا کر ارادت مندوں تک پہنچائی گئیں۔ شاہکارِ صابر (حضرت سیدن سرکار کے حالاتِ زندگی) کا دوسرا ایڈیشن شائع کیا گیا۔

پاک پتن شریف میں فیوضات

حضرت قبلہ سجادہ نشین میاں منصور اعجاز قدوسی جناب شمیم صابر صابری کو اپنے ہمراہ لے کر پاک پتن شریف حضرت مسعود العالمین گنج شکر بابا فرید رحمۃ اللہ علیہ کے دربار میں حاضر ہوئے، اس موقعہ پر موجود عینی شاہدوں کا بیان ہے کہ منظر قابلِ دید اور یادگار تھا، جیسے جناب حضرت سید میاں منصور اعجاز قدوسی حضرت فرید الدین گنج شکر مسعود العالمین رحمۃ اللہ علیہ کے حضور عرض کر رہے ہوں۔ غریب نواز بابا جی عالی قدر سرکار میں حضرت پیر سیدن شاہ صابری رحمۃ اللہ علیہ کا پوتا اور جناب حضرت پیر گلزار حسین شاہ صابری رحمۃ اللہ علیہ کا فرزند شمیم صابر صابری آپ کی بارگاہ میں اس لئے لایا ہوں کہ یہ میری جگہ حضرت صابر پاک رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت سیدن رحمۃ اللہ علیہ سرکارِ کلیری کے مشن کو اس دیس میں جاری و ساری رکھیں گے۔
اپنے لاڈلے نورِ نظر حضرت مخدوم صابر رحمۃ اللہ علیہ کلیری کے طفیل ہمیشہ انہیں اپنی خصوصی کرم بخشیوں اور عطاؤں سے نوازیں آنسوؤں کے موتی نچھاور ہوتے رہے۔ بارگاہِ حضرت فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ سے رحمتوں کی برسات برستی رہی، لینے والے جھولیاں پھیلائے کھڑے رہے، عطا کرنے والی ہستی دستِ غیب سے عطاؤں کے دریا بہاتی رہی۔ جب مکمل انتقالِ نعمتِ باطنی ہو گیا تو روضہ اقدس کے اندر حاضر ہو کر خوش بخت اراکینِ قافلہ نے قدم بوسی کر کے مبارک اعزاز کے شکرانے ادا کئے۔ یہ عالی قدر، ذی وقار مہمان 2 ماہ کے قیام کے بعد حضرت پیر شمیم صابر صابری کو بہت پیار اور دعاؤں سے نوازتے ہوئے نیز حضرت سیدن رحمۃ اللہ علیہ و گلزار سیدن رحمۃ اللہ علیہ کے تمام وفا دار مریدوں، غلاموں کو شفقت و محبت سے دعائیں دیتے ہوئے 25 فروری کو واپس کلیر شریف روانہ ہوئے اور جناب حضرت پیر شمیم صابر صابری نے بھی اس صابری و قدوسی عالی وقار مہمان کو اسی تزک و احتشام اور ادب و احترام سے الوداع کیا جس طرح حضرت پیر گلزار حسین شاہ صابری رحمۃ اللہ علیہ کیا کرتے تھے۔

دیگر مقامات

  • نورِ چشمِ قبلۂ عالم حضرت سید مردان علی شاہ صاحب صابریؒ کے مزارِ اقدس کی تعمیرِ ثانی ۲۰ دسمبر ۲۰۱۳ء، مطابق ۲۸ محرم الحرام ۱۴۳۵ھ زیرِ قیادت حضرت پیر شمیم صابر صاحب صابری مدظلہ العالی، زیبِ سجادہ نشین صابری دربار کلس شریف، ضلع سرگودھا۔
  • مگھو پنڈی: حضرت سید مردان علی شاہ صابری رحمۃ اللہ علیہ کے دربار پر مسجد، فرش، مہمان خانے، لنگر خانے
  • ملکوال میں مہمانوں کے ٹھہرنے کی جگہ کا بہترین انتظام
  • سڑکوں کی مرمت اور تعمیر

نرم دمِ گفتگو، گرم دمِ جستجو
رزم ہو یا بزم ہو، پاک دل و پاکباز

نہ غرض کسی سے نہ واسطہ، مجھے کام اپنے ہی کام سے
تیرے ذکر سے، تیرے فکر سے، تیری یاد سے، تیرے نام سے