اللہ سے ڈرو اور ان لوگوں سے بھی جو اللہ سے نہیں ڈرتے۔
یہ ارشاد ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنا چاہیے اور ایسے لوگوں سے بھی محتاط رہنا چاہیے جو اللہ کے احکامات کی پابندی نہیں کرتے۔
رسولِ خدا ﷺ کی سچی محبت ہی انسان کو اللہ کا محبوب بناتی ہے۔
حضور نبی کریم ﷺ سے سچی محبت اور اتباع ہی وہ راستہ ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کا محبوب بنا دیتا ہے۔
تصوف سراپا ادب ہے؛ جس نے ادب کا دامن تھام لیا، وہ بامراد ہو گیا۔
روحانی راستے میں ادب و احترام کا بہت اہم مقام ہے۔ جو شخص ادب کے ساتھ چلتا ہے، وہ اپنی منزل تک پہنچ جاتا ہے۔
مصیبت میں صبر اور نعمت پر شکر کو لازم کر لو۔
زندگی کے ہر حال میں صبر و شکر کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ مصیبت میں صبر اور نعمت پر شکر کرنا ایمان کا تقاضا ہے۔
راہِ سلوک میں کرامت نہیں بلکہ استقامت کی طلب رکھو۔
روحانی راستے میں کرامات کی تلاش نہیں بلکہ استقامت اور ثابت قدمی کی ضرورت ہے۔
تو کل طمع سے نجات دلاتا ہے۔
جو بندے کو اپنے خالق سے دور کرے، وہی دُنیا ہے۔
سب سے قوی اور بہادر وہ انسان ہے جو اپنی خواہشاتِ نفسانیہ پر قابو پالے۔
نماز بے سرور، سجدے بے حضور درگاہِ حق میں منظور نہیں ہوتے۔
اللہ تعالیٰ سے محبت رکھو، اگر یہ نہ ہو سکے تو ان لوگوں سے محبت رکھو جو اللہ سے محبت رکھتے ہیں۔
ہماری خواہشات ہمارے راستے کے پتھر ہیں۔
فرقوں کی لڑائی اس وجہ سے ہے کہ لوگ حقیقت کو نہیں پہچانتے بلکہ من گھڑت باتوں کے پیچھے دوڑتے ہیں۔
راہِ سلوک میں کرامت دکھاؤ نہ کر امت طلب کرو، بلکہ ہمیشہ استقامت طلب کرو۔
اپنی اچھائیوں پر نظر نہ رکھو اور دوسروں کی برائیوں پر نظر نہ رکھو۔
انسان پہاڑ سے گر کر دوبارہ پہاڑ پر چڑھ سکتا ہے، مگر اعتماد کی نظر سے گر کر دوبارہ وہ مقام حاصل نہیں کر سکتا۔
اگر تو عقل مند ہے تو جاہلوں سے پرہیز کر، جاہل کی دوستی میں خسارہ ہے۔
مردِ دانا کی قوت بلندی کی طرف لے جاتی ہے، جاہل کی قوت پستی و ذلالت میں جا گراتی ہے۔
اللہ والے گناہ سے نفرت کرتے ہیں مگر گنہگار کو سینے سے لگا کر گناہوں سے بچا لیتے ہیں۔
صرف بدن کی صفائی پر اکتفا نہ کرو، بلکہ دل کی صفائی حقیقی منافع بخش ہے۔
خدا تعالیٰ کی نافرمانیاں حق تعالیٰ سے بغاوت ہے۔
اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور ان لوگوں سے بھی ڈرو، جو اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے۔
اللہ تعالیٰ سے ڈرو گے تو اس کا قرب حاصل ہوگا۔ اللہ تعالیٰ سے نہ ڈرنے والوں سے ڈرو گے تو شر سے محفوظ رہو گے۔
پیار سے خالی دل آگ کا عذاب پاتے ہیں اور پیار والے آگ کو پھول بنا دیتے ہیں۔ جو خدا کا شرم رکھتا ہے، یومِ محشر خدا اس کا شرم رکھے گا۔
ایک دن کی وہ عبادت جو محبت اور خلوص سے کی جائے، بغیر محبت کی گئی سالوں کی عبادت سے بہتر ہے۔
زبان اور شرمگاہ کی حفاظت کرو تم اولیاء اللہ میں شامل ہو جاؤ گے۔
رسول خدا ﷺ سے سچی محبت انسان کو خدا کا محبوب بنا دیتی ہے۔
گناہ کے دھبے صابن سے نہیں دھلتے، انہیں عشق کی آگ سے صاف کر لو، ورنہ دوزخ کی آگ میں ڈال کر صاف کیا جائے گا۔
بدگوئی کی تلوار ایک کو دو کرتی ہے، مگر اخلاق کا ہتھیار دو کو ایک کرتا ہے۔
جو تمہاری راہ میں کانٹے بچھائے تو انتقاماً اس کی راہ میں کانٹے نہ بچھاؤ، اس طرح ہر طرف کانٹے ہی کانٹے پھیل جائیں گے۔ تم جہاں تک ممکن ہو راہ سے کانٹے ہٹا دو۔
نادان وہ ہے جو کانٹے بوئے اور پھولوں کی اُمید رکھے۔
گندم بیجو تا کہ گندم اور بھوسہ دونوں تمہارے ہاتھ آجائیں۔ بھوسہ نہ بیجو، بھوسہ ملے گا نہ گندم۔ دین حاصل کرو تا کہ دین بھی ملے اور دُنیا بھی۔ صرف دُنیا پہ جان نہ مارو، دنیا ہاتھ آئے گی نہ دین۔
کسی کو راز بتا کر اس سے افشا نہ کرنے کی اُمید رکھنا حماقت ہے۔ جو تو خود نہ چھپا سکا وہ دوسرا کیونکر چھپائے گا۔
کم بولنا دانائی ہے، کم کھانا صحت ہے، کم سونا عبادت ہے۔
اچھی زندگی، اچھی بات کرنا، اچھی بات سننا اور اچھے لوگوں کی صحبت میں بیٹھنا ہے۔
اپنا ہر روز حساب کیا کرو، ورنہ روزِ حساب، حساب دینا مشکل ہو جائے گا۔
جس نے اپنی قدر و منزلت پہچان لی، برباد نہ ہوگا۔
عقلِ سلیم عطائے خداوندی ہے۔
وہی مال تیرا ہے جو تو نے راہِ حق میں خرچ کر لیا۔ جو پیچھے رہا، وارثوں کا مال ہے۔
بخیل دُنیا میں زندگی غرباء کی طرح گزارتا ہے اور آخرت میں حساب امراء کی طرح دیتا ہے۔
جو مال دینے میں بخیل ہو وہ عزت دینے میں بھی ہوتا ہے۔
تصوف سرتا پا ادب ہے، جو اس کا لحاظ رکھے گا، مراد پائے گا، جس نے ادب چھوڑا، بے مراد ہوا۔
بوڑھے عقلمند کا مشورہ احمق جوان کی طاقت سے افضل ہے۔
خدا کی عبادت اپنے نفس پر جبر کے بغیر نہیں ہو سکتی۔
مصائب کا مقابلہ صبر سے کرو اور نعمت کی حفاظت شکر سے کرو۔
اگر تو کسی پر احسان کرے تو بھول جا اور جو تجھ پر احسان کرے یاد رکھ۔
جو عمل کر کے پچھتانا پڑے گناہ ہے، جس عمل کے بعد ایک گونہ خوشی ہو ثواب ہے۔
عالم جب تک علم سے دنیا حاصل نہ کرے، حکیم ہے۔ جب علم کو ذریعہ روزگار بنا لے، بیمار ہے۔
عبادت توبہ کے بغیر نامکمل ہے۔ خدا تعالیٰ عبادت سے پہلے توبہ قبول کرتا ہے۔
انسان کو عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ بے عبادت زندگی سے موت بہتر ہے۔
تھوڑا علم دہریت کا سبب بنتا ہے، وسعتِ علم خدا کا قائل بنا دیتی ہے۔
جوں جوں وقت گزرتا ہے، خدا والوں کا خدا پر ایمان محکم ہوتا جاتا ہے۔
بے وقوف وہ ہے جس نے خدا کو ناراض اور لوگوں کو راضی کیا۔
جنہیں دعویٰ ہے کہ ہم راہِ راست پر ہیں، وہی صراطِ مستقیم پر چلنے کی دُعا کرتے ہیں۔
حیوانات پر نزولِ بلا بے زبانی کے باعث اور انسان پر نزولِ بلا زبان کی وجہ سے ہوتی ہے۔
تجھے چاہیے کہ وہ کام کر جو تجھے کرنا چاہیے، وہ نہ کر جو تیرا جی چاہے۔
کسی نے پوچھا فلاں شخص کی موت کا سبب کیا ہوا؟ فرمایا اس کی زندگی، ہر زندگی کی سزا، سزائے موت ہے۔
زیادہ باتیں کرنا خواہ کتنی اچھی ہوں، علامتِ دیوانگی ہے۔
عورتوں کے کہنے پر عمل نہ کر، آفاتِ زمانہ سے محفوظ رہے گا۔
اگر دنیا میں عورت نہ ہوتی تو انسان معمولی عبادت سے ولی بن جاتا۔
عورتوں کی محفل میں زیادہ نہ بیٹھا کر، ورنہ غم پیدا ہوگا۔
عقل مند سوچ کر بولتا ہے، بے وقوف بول کر سوچتا ہے۔
خوش خُو غمزدہ نہیں ہوتا، اگرچہ مبتلائے مصیبت ہو۔ بدخو کبھی خوش نہیں ہوتا، اگرچہ ہر طرح کی راحت ہو۔
مالدار کو بخل، حکام کو غرور، جوانوں کو شہوت، عابد کو غرور اور بوڑھے کو افسوس تباہ کر دیتا ہے۔
مرد بننا مشکل ہے مگر مردہ بننے میں تو کوئی مردانگی کی ضرورت نہیں، مردہ بن جا تا کہ تجھ سے کسی کا دل نہ دُکھے۔
دنیا دار دنیا کے پیچھے دوڑتے ہیں اور دنیا اللہ والوں کے پیچھے دوڑتی ہے۔
مفلس وہ نہیں جس کے پاس دولتِ دنیا نہ ہو بلکہ مفلس وہ ہے جس کے پاس دولتِ خلوص نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی مخلوقات پر غور و فکر روحانی ترقی کا اہم ذریعہ ہے۔ ذکر سے دل کی صفائی ہوتی ہے اور فکر سے معرفت حاصل ہوتی ہے۔
خدمتِ خلق ہی اصل عبادت ہے۔ اللہ کے بندوں کی خدمت کرنا اللہ کی رضا حاصل کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔
اچھے اخلاق ہی انسان کو کمال تک پہنچاتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کا اخلاق سب سے بہترین تھا، اسی لیے ہمیں بھی اچھے اخلاق اپنانے چاہیے۔
صبر اور شکر دونوں ایمان کے اہم اجزاء ہیں۔ مصیبت میں صبر اور نعمت پر شکر کرنا چاہیے۔
نماز اسلام کا ستون ہے۔ ہر مسلمان کو نماز کی پابندی کرنی چاہیے اور وقت پر ادا کرنی چاہیے۔
قرآن پاک کی روزانہ تلاوت کرنی چاہیے۔ قرآن ہدایت کا سرچشمہ ہے اور اس سے روحانی طاقت حاصل ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ذکر دل کو صاف کرتا ہے۔ صبح و شام کے اذکار کا اہتمام کرنا چاہیے۔
دعا ایمان کا حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ہر وقت دعا کرنی چاہیے اور استغفار کا اہتمام رکھنا چاہیے۔