حضور پیر سیدن شاہ چشتی صابریؒ، (کلس شریف).حضرت پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ المعروف (بھیرہ شریف) اور حضرت پیر محمد کرم شاہؒ المعروف دربارِ عالیہ (پیر کھارا شریف تحصیل پنڈ دادن خان)، یہ تینوں جلیل القدر اور برگزیدہ روحانی شخصیات ایک ہی معزز خانوادئہ ہاشمی قریشی سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان عظیم ہستیوں کا شجرۂ نسب ایک مستند اور روشن برگزیدہ ہستی سے براہِ راست شیخ الاسلام، مخدوم حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانیؒ المعروف حضرت غوثِ بہاء الحقؒ تک جا ملتا ہے۔ یہ مبارک خانوادہ صرف ماضی کی ایک درخشاں یاد نہیں بلکہ آج بھی اپنی روحانی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانیؒ کے اس معزز ہاشمی قریشی خاندان کے افراد آج بھی برصغیر سمیت انہی مختلف علاقوں پر آباد ہیں، جہاں اج بھی ان خانقاہوں سے دینِ اسلام کی خدمت، اصلاحِ باطن اور مخلوقِ خدا کی روحانی تربیت میں مصروفِ عمل ہیں۔ صدیوں سے جاری یہ روحانی وراثت کسی وقتی تحریک کا نتیجہ نہیں بلکہ اخلاص، تقویٰ اور خدمتِ خلق پر قائم وہ مقدس امانت ہے جس کے امین یہ برگزیدہ ہستیاں اور ان کا خانوادہ ہیں، اور جن کے فیوض و برکات آج بھی طالبانِ حق کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
حضور سیدن سرکار رحمۃ اللہ علیہ، حضرت غوث بہاؤ الحق ذکریا رحمۃ اللہ علیہ ملتانی کی اولاد سے ہیں۔
سرکار کا شجرہ شریف چھ پشتوں کے بعد حضرت غوث بہاء الحق زکریا
رحمۃ اللہ علیہ کے منجھلے صاحبزادے
حضرت شیخ مخدوم علاؤ الدین رحمۃ اللہ علیہ سے جا ملتا ہے
رحمۃ اللہ علیہ
(پانچویں پشت کے دادا جان)
رحمۃ اللہ علیہ
رحمۃ اللہ علیہ
(۱۷۲۰ء - ۱۸۰۰ء)
رحمۃ اللہ علیہ
رحمۃ اللہ علیہ
(وفات: ۲۳ نومبر ۱۹۴۶ء)
رحمۃ اللہ علیہ
(۲۵ نومبر ۱۹۰۸ء - ۲۵ نومبر ۱۹۷۳ء)
حضرت پیر محمد شافعی رحمۃ اللہ علیہ سرکار کی پانچویں پشت کے دادا جان ہیں۔ نہایت عبادت گزار اور صاحبِ کرامت ولی اللہ تھے۔ انہوں نے ملتان سے ہجرت فرمائی۔ اپنے مریدین کے ہمراہ چلتے چلتے پنڈ دادنخان کے ملحق دریائے جہلم کے شمالی کنارے اپنی ایک نئی بستی آباد کر لی جس کا نام کلس رکھا۔
لوگ آپ کی خدمت میں مریضوں کے علاوہ اپنے دُکھ اور تکالیف لے کر حاضر ہوتے۔ آپ بحضور خداوند دعا فرماتے جو بفضلِ خدا تعالیٰ مستجاب ہو جاتی۔ آنے والوں کی مصیبتیں اللہ تعالیٰ دور فرماتا۔ مریض صحت یاب ہو جاتے۔ اسی لیے آپ کا نام پیر محمد شافعی شاہ زبانِ زدِ خاص و عام ہو گیا۔
یہ زمانہ مغلیہ خاندان کے دور حکومت کا تھا۔ ملک میں سیاسی بے چینی تھی۔
مگر اللہ والے گوشۂ عافیت میں بیٹھے فیضِ عام تقسیم فرما رہے تھے۔
حضرت پیر محمد شافعی رحمۃ اللہ علیہ کو اللہ نے ایک سعادت مند فرزند عطا فرمایا جس کا نام نامی پیر محمد صدیق رحمۃ اللہ علیہ رکھا گیا۔
پیر محمد صدیق رحمۃ اللہ علیہ حضرت پیر محمد شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے تھے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد بزرگوار سے حاصل کر لی۔ بعد ازاں پنڈ دادنخان میں تعلیم مکمل کی۔ آپ عالم و فاضل ہونے کے علاوہ نہایت عبادت گزار بزرگ تھے۔
آپ کے فیض و اکرام کا شہرہ دور دور تک پھیلا۔ حاجت مند حاضر ہونے لگے۔ آپ لوگوں کو دعا اور دم سے نوازتے۔ مالک حاجت پوری فرما دیتا۔
اللہ تعالیٰ نے ایک سعادت مند، نیک بخت، خوبصورت بیٹا عطا فرمایا
جو آئندہ ہونے والا اس خاندان میں عظیم سپوت تھا
جس کا نام نامی پیر محمد یاسین رحمۃ اللہ علیہ رکھا گیا
کلس شریف کے ہاشمی خاندان کے مورثِ اعلیٰ اور بلند پایہ ولی اللہ
آپ ۱۷۲۰ء میں حضرت پیر محمد صدیق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی دینی تعلیم اپنے والد گرامی سے حاصل کی۔ طبیعت جذب و فقر کی طرف مائل تھی۔ بچپن ہی میں عبادت گزار، قائم اللیل اور صائم النہار عابد و زاہد تھے۔ عبادت میں محنتِ شاقہ فطرت میں شامل تھی۔ حافظِ قرآن تھے، ہر وقت لبوں پر قرآن پاک کی تلاوت جاری رہتی۔
آپ جوانی میں پیرِ کامل کی تلاش میں سرگرداں ہو گئے۔ کئی بزرگوں کے پاس جاتے مگر طبیعت سیر نہ ہوتی۔ کسی بزرگ سے حضرت پیر لعل حسین کروڑی رحمۃ اللہ علیہ کا ذکر سنا۔ زیارت کا اشتیاق پیدا ہوا۔ دریائے جہلم کے کنارے کنارے پیدل روانہ ہو لیے۔
موضع کروڑ میں پیرِ روشن ضمیر حضرت لعل حسین کروڑی قریشی الہاشمی رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ تین دن محفل میں رہے۔ ایک صبح بیعت ہونے کی درخواست کی۔
آپ نے فرمایا: "آپ حضرت غوث بہاؤ الحق ذکریا رحمۃ اللہ علیہ میرے جد امجد کی اولاد ہیں، نیک سیرت ہیں۔ آپ کو صرف مرید نہیں بنانا، مراد بناتا ہوں۔ جاؤ ایک لاکھ دفعہ سورہ یٰسین کا وظیفہ کر کے میرے پاس آ جاؤ، پھر تمہیں مشرفِ بیعت کیا جائے گا۔"
پیر یاسین رحمۃ اللہ علیہ اپنے پیر کا حکم سن کر واپس گھر آ گئے۔ سردی کا موسم تھا۔ دریا کا تھا خشک مگر دریا کے نشیبی حصوں میں وسیع پانی کھڑا تھا۔ ایک نشیبی دریائی تالاب میں کھڑے ہو گئے۔
خیال فرمایا: "میں اپنے پیر کے حکم کو دریا کے پانی میں کھڑا ہو کر پورا کروں گا۔ مجھے ایک لاکھ دفعہ سورہ یٰسین پڑھنے کا حکم ملا ہے۔ مگر میرے پیر کے شہر کا نام کروڑ ہے، میں کروڑ دفعہ سورہ یٰسین پڑھوں گا۔ جب تک وظیفہ مکمل نہ ہو، روزے سے رہوں گا اور پانی سے باہر نہیں آؤں گا۔"
اللہ کا نام لے کر پانی میں کھڑے ہو گئے۔ روزہ کی نیت باندھ لی۔ کئی شب و روز پانی میں کھڑے رہے اور وظیفہ جاری رہا۔ بزرگوں سے سنا ہے کہ پانی میں ڈوبے ہوئے حصوں کا اکثر گوشت آبی جانور، جونکیں اور کچھوے وغیرہ کھا گئے۔ جب پانی سے نکلے تو پنڈلیوں اور رانوں کی ہڈیاں باقی تھیں۔
مشرفِ بیعت فرمایا۔ اس کے بعد حضرت پیر یاسین رحمۃ اللہ علیہ صاحب کے دستِ حق پرست سے فیوض و اکرام کی دولت بٹنے لگی۔ حاجت مند جوق در جوق حاضریاں دینے لگے۔
خاندانِ ہاشمی معہ قوم کھوکھر ملتان سے ہجرت کر کے دورِ مغلیہ میں کلس ضلع جہلم میں آ گیا تھا۔ یہیں دریائے جہلم کے شمالی کنارے اپنی الگ بستی بسائی تھی جو کلس کے نام سے موسوم تھی۔ کلس کی اراضی اور گاؤں دریا کے کٹاؤ کی زد میں آ گیا۔
اہلیانِ کلس نے اپنی بستی دریا کے جنوبی کنارے بسانا چاہی۔ کلس دریا کے جنوبی کنارے گوندل قوم کے قبضہ میں تھا۔ وہ کھوکھروں کو آباد نہ ہونے دیتے تھے۔ آخر حضرت پیر محمد صدیق شاہ رحمۃ اللہ علیہ سے امداد کی درخواست کی۔
حضرت پیر یاسین شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں موجودہ موضع کلس کی بنیادیں رکھی گئیں۔ قوم گوندل مقابلے کو آئی۔ گوندلوں نے پیر صاحب پر بندوق کا فائر کیا۔ بندوق کی گولی جسم سے چھو کر زمین پر جا گری۔ ایسے معلوم ہوا جیسے کسی نے پختہ دیوار کو گیند ماری ہو۔
حضرت پیر یاسین شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے نعرۂ تکبیر بلند کیا اور فرمایا: "آج تم میں سے کوئی گولی کی موت نہ مرے گا۔ بے خوف ہو جاؤ۔ یہ زمین تمہاری ہے۔" گوندل بھاگ نکلے اور یہ تمام اراضی کھوکھروں کو مل گئی۔
موضع کلس کی تمام اراضی جو حضرت پیر یاسین شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی برکتوں اور کوششوں سے حاصل ہوئی تھی، آپ نے قوم کھوکھر کو عطا کر دی۔ تمام قوم کو اکٹھا کر کے فرمایا:
اپنے خاندان کو حکم فرمایا: "تم لوگ انبیائے کرام اور اولیائے عظام کے ورثہ کے وارث ہو۔ یادِ خدا سے غافل نہ رہنا۔ نیکی، پاکیزگی، طہارت اور عبادت اپنا شعار بنائے رکھنا۔"
موضع کوڑا نزد پنڈ دادنخان میں آپ کے کافی عقیدت مند تھے۔ اہلیانِ موضع کوڑا کا اپنے ملحقہ موضع ڈنڈوت سے حد بندی کا تنازع تھا۔ اہلِ ڈنڈوت نے آخری چیلنج کیا۔
تمام گاؤں حضرت پیر یاسین شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ عرض کی: "حضور، ان لوگوں کے پاس بندوقیں ہیں۔ ہم لاٹھیوں سے بندوقوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔"
صبح لڑائی ہوئی۔ دشمنوں نے بندوقیں چلائیں مگر بے سود رہیں۔ فتح موضع کوڑا کو ہوئی۔ اہلیانِ موضع کوڑا کا کہنا ہے کہ پیرِ پاک کی دعا کے بعد آج تک کوئی آدمی گولی سے نہیں مرا۔
موضع احمد آباد دریا کے کٹاؤ اور بہاؤ کی زد میں آ گیا۔ حضرت پیر کرم شاہ رحمۃ اللہ علیہ دربارِ عالی کھارا شریف اور حضرت پیر یاسین شاہ رحمۃ اللہ علیہ دربارِ کلس شریف (جو آپس میں خالہ زاد بھائی بیان کیے جاتے ہیں) دونوں بزرگوں نے دریا کو حکم دیا۔
حضرت پیر کرم شاہ رحمۃ اللہ علیہ بوقتِ مغرب احمد آباد آ گئے۔ دریا کے کنارے مصلیٰ بچھایا اور محوِ عبادت ہو گئے۔ اللہ کے ولی کی پُر اثر دعائیں درگاہِ خداوندی میں مستجاب ہوئیں۔ طلوعِ آفتاب تک دریا نے اپنا رخ موڑ لیا۔
اتنے میں حضرت پیر یاسین شاہ رحمۃ اللہ علیہ بھی پہنچ گئے۔ دریا کے اس کنارے پر مصلی ڈال کر نمازِ اشراق ادا کی۔ کافی دیر محوِ دعا رہے۔
یکدم دریا میں گڑگڑاہٹ پیدا ہوئی اور پانی از خود لاشیں اچھال اچھال کر دریا کے کنارے پھینکنے لگا۔ لوگوں نے اپنی اپنی لاشیں اٹھائیں اور نئے قبرستان میں دوبارہ دفن کر دیں۔
حضرت پیر یاسین شاہ رحمۃ اللہ علیہ کو اللہ تعالیٰ نے نیک، سعادت مند، صاحبِ بخت فرزند عطا فرمایا جس کا نام نامی پیر بخش رکھا گیا جو بعد میں پیر شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے مشہور ہوئے۔
حضرت پیر یاسین شاہ رحمۃ اللہ علیہ کا وصال ۱۸۰۰ء میں ہو گیا۔ آپ کا مزار گاؤں کلس سے بجانب شمال بنا۔ آپ کا دربار جھنڈوں کے نام سے مشہور ہے۔
کلس شریف کے خاندان ہاشمی کو سلسلہ چشتیہ صابریہ سے وابستہ کرنے والے بزرگ
حضرت پیر بخش المعروف پیر شاہ رحمۃ اللہ علیہ حضرت پیر یاسین شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے نیک بخت صاحبزادے تھے۔ یہی صاحبِ کرامت بزرگ ہیں۔ حضرت پیر شاہ رحمۃ اللہ علیہ موصوف حضرت سیدن سرکار رحمۃ اللہ علیہ کے دادا جان تھے۔
نہایت عابد و زاہد، عالم و مشتاق تھے۔ عبادات و ریاضات سے انتہائی شغف تھا۔ ہمہ وقت مصروفِ عبادت رہتے۔ یہ شوق باپ سے ورثہ میں ملا تھا۔ آپ کے والد ماجد بھی انتہائی عبادت گزار تھے۔ یہ انہی کی پاکیزہ تربیت کا اثر تھا کہ حضرت پیر شاہ رحمۃ اللہ علیہ اولیائے عصر میں بطورِ ضرب المثل پیش کیے جاتے تھے۔
گرمیوں کا موسم تھا۔ آپ اپنے گھوڑے پر سوار موضع شاکرپور جا رہے تھے۔ راستے میں موضع کھیویا نوالہ کے روشن نمبردار کا کنواں چل رہا تھا۔ آپ کپڑا باندھ کر نہانے لگے۔
گاؤں سے دو عورتیں سر پر گھڑے رکھے اس کنویں سے پانی لینے آئیں۔ روشن نمبردار آپ کے پاس آ کر گستاخانہ زبان استعمال کرنے لگا اور کنویں سے فوراً چلے جانے کو کہا۔
زبان سے تقدیر کا تیر چل چکا تھا۔ ابھی عورتیں برتن صاف کر رہی تھیں کہ وہ شخص باؤلے کتے کی طرح بھونکنے لگا۔ بیلوں اور عورتوں کو کاٹنا شروع کر دیا۔
لوگ اسے رسوں سے جکڑ کر ایک چارپائی سے باندھ کر شاکرپور لے آئے۔ راجہ وارش خان کی ۸-۹ سالہ بچی کو بہلا کر بھیجا گیا۔ پیچھے پیچھے سارا گاؤں رو رو کر گستاخی کی معافی مانگنے لگے۔
طبیعت ٹھنڈی ہوئی۔ اسے دم فرمایا اور فرمایا: "لے جاؤ اب یہ ٹھیک ہے۔ مگر تمام عمر جب وقتِ عصر آئے گا اس کی یہ حالت ہو جائے گی۔"
مریض ٹھیک ہو گیا۔ مگر تمام عمر اس کی عصر کے وقت حالت باؤلے کتے کی طرح ہو جاتی تھی۔ یہ کیفیت آدھ گھنٹہ تک رہتی پھر درست ہو جاتا۔
آپ زاہد تھے، متقی تھے۔ بڑے عبادت گزار اور صاحبِ کشف و کرامات تھے۔ شب و روز عبادت میں محو رہتے۔ اس کے باوجود اپنے آپ میں کمی محسوس کرتے۔ سلوک و تصوف کی کٹھن راہوں میں مرشدِ کامل کی اشد ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔
حضرت سید حیدر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ آستانہ عالیہ جلال پور شریف آپ کے دوست اور محرمِ راز تھے۔ دونوں حضرات باہم مشورے کے بعد خواجہ شمس العارفین رحمۃ اللہ علیہ آستانہ عالیہ سیال شریف کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مشرفِ بیعت ہونے کی درخواست کی۔
مردِ کامل کی نگاہِ حق بیں نے سب کچھ دیکھ لیا۔
سید حیدر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کو باوضو ہو کر حاضر ہونے کا حکم دیا اور دستِ حق پرست پر بیعت فرما لیا۔
مگر حضرت پیر بخش شاہ رحمۃ اللہ علیہ کو فرمایا:
"تمہارا حصہ میرے پاس نہیں۔ تمہاری امانت لے کر ایک صابری بزرگ چلا ہوا ہے۔ تم انتظار کرو۔ وہ مردِ کامل خود تمہارے پاس پہنچ جائے گا۔ تمہارا حصہ تمہیں مل جائے گا۔"
حضرت پیر شاہ رحمۃ اللہ علیہ پیرِ سیال رحمۃ اللہ علیہ کا یہ پیغامِ حق آگاہ بن کر واپس آ گئے اور شب و روز انتظار میں کٹنے لگے۔ یہ راز حضرت سید مردان علی شاہ صابری رحمۃ اللہ علیہ کی ملاقات پر کھلا۔
حضرت پیر بخش شاہ رحمۃ اللہ علیہ کو اللہ تعالیٰ نے دو بیٹے عطا فرمائے جو انتہائی نیک سیرت، خوش صورت اور صاحبِ کردار بزرگ ہوئے۔
حضرت پیر بخش شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی وفات سرکار سیدن رحمۃ اللہ علیہ کے سالِ پیدائش (۱۹۰۸ء) میں ہوئی۔
سرکار کے والدِ ماجد
سرکار کے والدِ ماجد حضرت پیر محمد شاہ رحمۃ اللہ علیہ خوبصورت اور وجیہ جوان تھے۔ انتہائی فیاض اور غریب پرور تھے۔ بڑے بہادر، نڈر اور بلند حوصلہ بزرگ تھے۔ آپ کا شمار کرہ ارض کی خدا رسیدہ، عبادت گزار، متقی اور پارسا شخصیتوں میں ہوتا تھا۔
اوائلِ عمری میں کھیل کود اور شہسواری کا شوق تھا۔ مگر جب اپنے والد محترم حضرت قبلہ پیر بخش رحمۃ اللہ علیہ سے مشرفِ بیعت ہوئے، خیالات یکسر تبدیل ہو گئے۔ بقیہ تمام عمر عبادات اور ریاضات میں بسر کر دی۔
علی الصبح تہجد کی نماز اپنے والد گرامی کے مزار کے شمالی جانب کھلے آسمان تلے ادا کرتے تھے۔ سردی ہو یا گرمی، آپ کے معمولات میں فرق نہ آتا۔
کئی بار سخت سردی کے باعث سر پر کہری جم جاتی۔ صبح نماز سے فارغ ہو کر وہیں مصلیٰ پر اوراد و وظائف میں مشغول رہتے۔ سورج طلوع ہونے کے بعد نمازِ اشراق ادا کرتے اور وہیں دیر تک تلاوتِ قرآن پاک فرماتے تھے۔ سورج کی تپش سے سر پر جمی ہوئی کہر پگھل پگھل کر ٹپکتی رہتی۔
آپ کے دستِ حق پرست پر کئی ہندوؤں اور سکھوں نے اسلام قبول کیا۔
آپ کی وفات ۲۳ نومبر ۱۹۴۶ء کو ہوئی۔ مزار اپنے والد ماجد کے پہلو میں بنا، جہاں تمام عمر عبادت کی اور خود ہی اپنے مزار کے لیے جگہ کا انتخاب فرمایا تھا۔
حضرت مائی فاطمہ بی بی رحمۃ اللہ علیہا
سرکار کی والدہ محترمہ کا اسمِ گرامی حضرت مائی فاطمہ بی بی رحمۃ اللہ علیہا تھا۔ آپ نہایت عابدہ، زاہدہ، صابرہ اور پرہیز گار خاتون تھیں۔ کئی کئی مہینے متواتر روزے سے رہتیں۔
حاجت مند اور سائل حاضر ہوتے، انہیں دم اور دعاؤں سے نوازتیں۔ لوگ تشنہ کام رہتے۔ چہرے سے طہارت، پاکیزگی، نیکی اور عبادت اظہر من الشمس تھی۔ فیض کا چشمہ جاری تھا۔ تشنہ لب سیراب ہوتے تھے۔
ان دنوں ان بزرگوں کی اکلوتی اولاد حضرت پیر سیدن شاہ رحمۃ اللہ علیہ ہی تھے۔
اس عظیم سپوت نے دین و دنیا میں عظیم مقام حاصل کیا۔
شاید یہ ان پاکباز والدین کی دعاؤں کا ثمر ہو۔
سیدن سرکار رحمۃ اللہ علیہ کی والدہ محترمہ ایک بلند پایہ ولیہ کاملہ تھیں۔ بچپن ہی سے عبادت گزار، نیک اطوار، پاکیزہ کردار اور مربیانہ گفتار کی مالکہ تھیں۔
جناب مائی صاحبہ کے ماموں جان پیر بڑھے شاہ رحمۃ اللہ علیہ ولی اللہ تھے۔ مستانہ، قلندرانہ روش تھی۔ تارک الدنیا بزرگ تھے۔ جنگلوں اور پہاڑوں میں رہ کر عبادتِ الٰہی کرتے۔
ایک دفعہ گھومتے پھرتے ہمشیرہ کے گھر آ گئے۔ ہمشیرہ کی آٹھ سالہ بچی صحن میں کھیل رہی تھی۔ ماموں جان نے شفقت کا ہاتھ پھیرا۔ اپنے حقے کی چلم سے راکھ اٹھائی، بچی کے سر پر ڈال دی۔
قلندر مرد کی آواز لفظ بہ لفظ پوری ہوئی۔ جوانی میں قبلہ مائی صاحبہ کی شادی حضرت پیر محمد شاہ رحمۃ اللہ علیہ ساکن کلس شریف سے ہوئی۔ دونوں بزرگوں کی اولاد حضرت سیدن سرکار رحمۃ اللہ علیہ ہی تھے، جو عالم بالعمل، عارفِ کامل اور قلندرِ دوراں تھے۔
یہ تھے وہ بزرگانِ دین جن کی برکتوں سے
حضور سیدن سرکار رحمۃ اللہ علیہ نے روحانی مقام حاصل کیا
اور لاکھوں لوگوں کو فیضِ الٰہی سے نوازا